امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 124
لیاقت علی خان نے فرمایا کہ میں اقلیتوں کو مکمل تحفظ کا یقین دلاتا ہوں۔اقلیتوں کو مکمل آزادی ہوگی۔1958 Fundamentallaw of pakistan by A۔KBrohiP۔939۔942Karachi) 10 دسمبر 1948 ءکو جاری ہونے والے۔UN۔O کے چارٹر کے آرٹیکل نمبر 18 میں ذکر ہے کہ ہر شخص کو اپنے خیالات ہضمیر اور مذہب کی آزادی ہو گی۔مذہب تبدیل کرنے کی بھی آزادی ہوگی اور نہ صرف انفرادی طور پر بلکہ اجتماعی طور پر جماعت بنا کر بھی مذہب کا اظہار کرنے کی آزادی ہوگی۔اس میں Religion اور Belief دو الفاظ استعمال کئے گئے ہیں۔ان میں فرق یہ ہے کہ Religion معین مذہب یا طرز فکر کا نام ہے جب کہ بعض ایسے بھی لوگ ہوتے ہیں جن کا معین طور پر کوئی مذہب نہیں ہوتا مگر ان کا کوئی نہ کوئی اعتقاد ضرور ہوتا ہے۔ہمارے مذہب کا معاملہ ایسا آ پڑا ہے۔کہ کوئی معین تعریف یہاں پر طے نہیں ہو رہی۔آئین نے غیر مسلم کہہ دیا۔اعتقادات ہمارے کسی دوسرے غیر مسلم سے نہیں ملتے۔مسلمان ہمیں آئین نہیں کہنے دیتا۔غیر مسلم ، ہمارے اعتقاد ہمیں نہیں بناتے۔ہمیں مسلمان نہ کہا جائے مگر اپنے عقیدہ کی تو آزادی چاہئے۔اس دستاویز پر پاکستان نے بھی دستخط کئے ہیں اور بین الاقوامی برادری سے یہ قول و قرار کیا ہے کہ مذہبی آزادی دی جائے گی۔پھر بات یہیں پر ختم نہیں ہوتی بلکہ اس چارٹر آف ہیومن رائٹس کو اپنے عمل کا بھی حصہ بنالیا ہے گویا عہد کیا پھر اس کے بارے میں عمل سے اپنی نیت کا اظہار کیا تو اب اس عہد سے پھر جانا مناسب نہیں۔یہ اصول کم سے کم تھے اس سے زیادہ حقوق بھی دیئے جاسکتے ہیں۔چنانچہ 1956 ء کے دستور میں ان باتوں کو شامل کیا گیا۔اس میں ایک اس کا Preamble ہے اور دوسرا آرٹیکل نمبر 18 ہے۔Preamble میں درج ہے کہ اجتماعی اور انفرادی طور پر پاکستان کے شہریوں اور اقلیتوں کو مذہب کے اظہار، اس پر عمل کرنے اور پھیلانے کی آزادی ہوگی۔جو عہد دورانِ سفر کیا گیا تھا وہ گویا اب دہرایا جارہا ہے۔124