امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 121
یہ تحفظ فیڈ ریشن کے قیام سے پہلے ہو جانا چاہئے۔(مسلمانوں کے حقوق اور نہرور پورٹ صفحہ 35-36 از مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب) ارجن سنگھ عاجز نے لکھا کہ مسلمانوں کی جماعتوں میں احمد یہ جماعت مسلم لیگ کے طرز عمل کی حامی ہے اور اس کی تائید میں ہزاروں روپیہ خرچ کر رہی ہے۔یہی وجہ ہے کہ اگر چہ احرار شدید مخالفت کر رہے ہیں لیکن مسلم لیگ جماعت احمدیہ کے تعاون کو ضروری سمجھتی ہے۔(سیر قادیان صفحه 25-26 از ارجن سنگھ عاجز ، ایڈیٹر اخبار رنگین ) مؤرخ پاکستان جناب سید رئیس احمد جعفری نے لکھا کہ قادیانیوں کے دونوں فرقے مسلم لیگ کی تائید کر رہے ہیں اور مسٹر جناح کی سیاسی قیادت کے معترف ہیں۔مولوی محمد علی صاحب لا ہوری اور حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد نوراللہ مرقدہ کے تائیدی الفاظ بیان کئے ہیں اور بتایا ہے کہ آئندہ انتخابات میں مسلم لیگ کی تائید کرنے کے لئے مرزا صاحب موصوف نے خاص ہدایات جاری کیں۔(حیات محمد علی جناح 451 تا 453) مسلم لیگ کے اندر جو علماء تھے ان میں سے حافظ محمد ابراہیم سیالکوٹی نے مسلم لیگ میں مرزائیوں کو شامل کرنے کے اعتراض کا دفاع کیا اور کہا کہ سیاست میں قوم کو بحیثیت نوع دیکھا جاتا ہے۔( پیغام ہدایت در تائید پاکستان صفحہ 112 تا 114 182,171,170 تا185 مرتب محمد ابراہیم مہرسیالکوٹی) اس کا مطلب یہ ہے کہ ساتھ ساتھ اعتراض ہو رہے تھے اور ساتھ ساتھ ان کا دفاع کیا جا رہا تھا یہاں پر احمدیوں کے عقیدہ کو باطل بھی قرار دیا جا رہا تھا مگر سیاسی طور پر وہ اور دیگر مسلمان ایک وحدت تھے جو ساتھ ساتھ چل رہے تھے۔مولانا شبیر احمد عثمانی نے جب ان سے مسلم لیگ میں قادیانیوں کی شمولیت کے بارہ میں سوال کیا گیا تو کہا کہ اس کا یہ مطلب نہیں کہ مسلم لیگ کوئی مفتیوں کی جماعت ہے جس نے قادیانیوں کو مسلمان قرار دے دیا ہے بلکہ صرف یہ ہے کہ ہر اس شخص کو مسلمان تسلیم کیا گیا 121