امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 120
مفکر احرار چوہدری افضل حق نے کہا کہ ہم پاکستان کو پلیدستان سمجھتے ہیں اور کہا کہ اسلام کے باغی پاکستان کی بجائے ہم ہندو کے ہندوستان کو قبول کر لیں گے۔تاریخ احرار صفحہ 60,59 سلسله مطبوعات مجلس احرار اسلام پاکستان نمبر 2 از مفکر احرار امیر افضل حق ) علامہ محمد حفظ الرحمن سیوہاروی نے لکھا کہ پاکستان مسلم لیگ کے قائد اعظم کو بکنگھم پیلیس سے الہام ہوا ہے۔پھر لکھا کہ مسٹر جناح بیرسٹر کی بجائے مفتی بن گئے اور بڑے بڑے علماء کی تضحیک اور بے عزتی کرتے ہیں۔جن کا قصور صرف یہ ہے کہ وہ پاکستان کے حامی نہیں ہیں۔جمعیت العلمائے اسلام ہند نے فیصلہ کیا کہ پورا ہندوستان ہمارا پاکستان ہے۔تحریک پاکستان پر ایک نظر صفحہ 41،40 از علامہ الحاج مولا نا محمد حفظ الرحمن صاحب ناشر جمعیت علماء ہند دہلی ) اس صورتِ حال میں جماعت احمدیہ کا جو کر دار تھا وہ یہ تھا کہ جماعت احمد یہ دل وجان سے تحریک پاکستان میں شامل تھی۔اس ضمن میں ” اساس الاتحاد از حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد نوراللہ مرقدہ مرقومہ 1924 ء ہم نے پیش کیا ہے۔جس میں حضرت صاحب نے مسلم لیگ کی تائید فرمائی اور اس کی جدو جہد میں حصہ لینے کے لئے سیاسی طور پر مسلمان کی یہ تعریف بیان فرمائی کہ جو خود کو مسلمان کہے ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت پر ایمان لائے اور کلمہ پڑھے وہ مسلمان ہو۔(اساس الاتحاد صفحہ 4) اس میں امام جماعت احمد یہ حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب نے یہ بھی فرمایا کہ ایسی بھی تدابیر کی جائیں کہ آج ہونے والے معاہدات ہمیشہ قائم رہیں اور یہ نہ ہو کہ کسی وقت کثیر التعداد جماعت یہ محسوس کرے کہ اب اس کو قلیل التعداد جماعت کی ضرورت نہیں اور وہ معاہدہ کے خلاف قانون پاس کر دے۔(اساس الاتحاد) اس کے بعد ” نہر ور پورٹ پر تبصرہ از حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد نور اللہ مرقدہ کے بعض حصے پیش کئے گئے ہیں جس میں جناب امام جماعت احمدیہ نے ہندوستان کی اقلیتوں (مسلمانوں) کے حقوق کے تحفظ کا مطالبہ کیا تھا اور کہا تھا کہ 120