امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں

by Other Authors

Page 119 of 328

امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 119

ساتھی کو لوٹا اور قتل کیا اور پھر آ کر حضور کے ہاتھ پر اسلام قبول کر لیا اور مال بھی پیش کیا۔آنحضور نے اس کا اسلام قبول کر لیا مگر اس کا مال قبول نہ کیا اور فرمایا جب انسان کسی کے ساتھ ہو کر چلتا ہے تو اس کا ساتھ دینے کا احترام لازمی ہے۔یہ معاہدہ تو ڑا نہیں جا سکتا۔سنن ابی داؤد جلد ثانی کے حوالہ سے بتایا کہ عادت جاریہ بھی معاہدے کی ذیل میں آ جاتی ہے۔اس بارہ میں اس عدالت کا فیصلہ موجود ہے۔(PLD جلد دوم صفحہ 216) جس میں یہ طے کیا گیا ہے کہ معاہدات کی پابندی اسلامی لحاظ سے بھی ضروری ہے۔معاہدہ کا تحریری ہونا ضروری نہیں۔آپس کا قول وقرار بھی معاہدہ ہوتا ہے۔پاکستان بنانے کی جدوجہد میں دو گروہ بڑے واضح تھے اور یہ حض اتفاق نہیں تھا کہ ہم پاکستان کی جدو جہد کرنے والوں کے ساتھ چل پڑے ہوں، بلکہ اس ضمن میں بڑی واضح تقسیم موجود تھی۔لوگ بڑے خلوص نیت کے ساتھ اپنے اپنے راستے پر تھے مثلاً ابوالکلام آزاد، پاکستان کے قائل نہیں تھے۔وہ کانگریس کے ساتھ تھے۔نیشنلسٹ علماء واضح طور پر کانگریس کے ساتھ تھے۔اس ضمن میں یہ دیکھنا ہے کہ جو معاہدہ ہو اس کی صورت کیا ہے۔سید عطاء اللہ شاہ بخاری امیر شریعت احرار نے پاکستان کا مطالبہ کرنے والوں کو سور قرار دیا اور کہا کہ دس ہزار جینا اور شوکت اور ظفر جواہر لعل نہرو کی جوتی کی نوک پر قربان کئے جاسکتے ہیں۔(چمنستان از مولوی ظفر علی خاں صفحہ 165 سن اشاعت 1944 ء مقام چوک انارکلی لاہور ) مولانا مودودی نے تحریک پاکستان اور اس کے قائدین کے بارہ میں قائد اعظم کا نام لے کر کہا کہ ایک بھی شخص ایسا نہیں جو اسلام کو سمجھ سکتا ہو اور قیام پاکستان کی سیاست کو اسلامی سیاست کہنا تو کجا یہ اسلام کے لئے ازالہ حیثیت عرفی سے کم نہیں۔مسلمانوں کی مجوزہ حکومت کو مسلمانوں کی ” کافرانہ حکومت اور اس کو الہی حکومت قرار دینا، اس پاک نام کو بد نام کرنا قرار دیا۔اس جدو جہد کو اسلام کے رستے میں پہلے قدم کی بجائے الٹا قدم قرار دیا۔(مسلمان اور موجودہ سیاسی کشمکش حصه سوم صفحه 105,31,26تا133,108 تا 137 مكتبه جماعت اسلامی اچهره لاهور) 119