امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 118
تو حضرت قائد اعظم بانی پاکستان نے امان دی تھی۔قرآن حکیم کی رو سے معاہدات کی پابندی کا مضمون واضح کرنے کے لئے ہم نے تفسیر ضیاء القرآن (از پیر کرم شاہ جلد اول صفحہ 435) اور معارف القرآن (جلد 5 صفحہ 267 زیر آیت بنی اسرائیل آیت 35) پیش کی ہیں اور بتایا ہے کہ انسان کے کسی انسان سے ہر قسم کے معاملات میں معاہدے کی پابندی ضروری ہے۔سورۃ مومنون آیت نمبر 8 وَعَهْدِهِمْ رعُونَ کی تفسیر میں مولانا مودودی کی تفسیر تفہیم القرآن (جلد 3 صفحہ 267 زیر آیت المومنون آیت8) سے واضح کیا ہے کہ اس میں وہ سارے معاہدے شامل ہیں جو افراد اور افراد کے مابین ہوتے ہیں۔فقہ اور دیگر لٹریچر سے بھی بات واضح کی گئی ہے۔امام یوسف ( کتاب الخراج از امام ابو یوسف صفحہ 135 مطبوعہ 1302 ھ مصر) نے کتاب الخراج میں لکھا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جس نے معاہد کے خلاف ظلم سے کام لیا تو ایسے مظلوم کی طرف سے میں لڑنے والا ہونگا۔حضرت عمرؓ نے وفات کے وقت نصیحت کی کہ عہدوں کا پاس کرنا، علاوہ از میں اُم ہانی نے اپنے دیور اور جیٹھ کو پناہ دی مگر اس کے بھائی ان کو قتل کرنا چاہتے تھے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کو تم نے پناہ دی اس کو ہم نے پناہ دی۔(مغنی لابن قدامه جلد 8 صفحه 97-396مطبوعه 1367ه) حضرت عائشہ نے فرمایا کہ اگر کوئی عورت بھی پناہ دے دے تو اس کا لحاظ رکھنا لازم ہے۔(سنن ابی داود کتاب الجهاد باب في امان المرأة جلد ثاني صفحه 24) مولوی محمد حسین بٹالوی نے اپنے ایک مضمون میں جس میں بخاری اور ابوداؤد سے سند لی گئی ہے بتایا کہ اگر کسی سے زبانی یا تحریری پیمان نہ ہو اور فقط ساتھ مل کر چلنے کا اور رہنے کا خیال ہوتو یہ بھی عہد میں شامل ہے اور اس کے خلاف کرنا حرام ہے۔(رسالہ اشاعۃ السنہ جلد دوم صفحہ 275) اسی مضمون کو الاقتصاد فی مسائل الجہادصفحہ 46,45 میں واضح کیا گیا ہے کہ ایک شخص نے اپنے 118