امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں

by Other Authors

Page 114 of 328

امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 114

اس مرحلہ پر یہ سوال اٹھایا گیا تھا کہ دستور ہمارے مسلم کہلانے میں مانع ہے۔یہ بھی کہا گیا تھا کہ ہم نے دوسروں کو کا فرقرار دے کر خود علیحدہ مسجدیں بنالی تھیں۔ہم نے یہ وضاحت کی تھی کہ عقیدہ کا اظہار حق ہے اور اس میں استثنیٰ کوئی نہیں۔یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ ہم نے مسجد میں الگ نہیں کیں۔ہمیں جبراً مسجدوں سے نکالا گیا۔قبروں سے ہمارے جنازے نکلوا کر باہر پھنکوائے گئے اور اس پر فخر کیا گیا۔چنانچہ ایک اشد ترین مخالف احمدی مولوی عبد اللہ خانپوری کی کتاب ” اظہار مخادعت مسیلمہ قادیانی کا حوالہ پیش کیا گیا کہ حضرت بانی سلسلہ احمدیہ تو اپنے ماننے والوں کو صبر اور صلح کی تلقین کرتے تھے۔لیکن معاندین اپنی مسجدوں سے احمدیوں کو نکال کر ذلیل وخوار کرنے اور مردے بے تجہیز وتکفین گڑھوں میں دبائے جانے پر بغلیں بجاتے تھے۔اظهار مخادعت قادیانی صفحه 2 یہ الزام کہ ہم نے پہلے کفر کا فتوی لگایا صیح نہیں ہے۔ہم پر کفر کا پہلا نوی 1982 ء کے قریب لگا۔لیکن میں چینج سے کہتا ہوں کہ کفر کا فتویٰ جماعت احمدیہ کی طرف سے پہلے نہیں آیا۔پس مرزا صاحب نے فتویٰ نہیں لگایا۔انہوں نے تو یہ فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے جو شخص دوسرے مسلمان کو کافر کہتا ہے وہ خود کافر ہو جاتا ہے۔(بخاری کتاب الادب باب من اكفر اخاه بغير تاويل فهو كما قال، مسلم کتاب الایمان باب حال ایمان من قال اخيه المسلم يا كافر) اس کے بعد اپنے اصل مبحث کی طرف رجوع کرتے ہوئے ہم نے عرض کیا تھا کہ فقہاء نے یہ بھی لکھا ہے کہ کوئی چیز کسی کو اسلام سے نکال نہیں سکتی سوائے اس چیز کے انکار کے جس نے اسے اسلام میں داخل کیا ہے۔(معین الحکام صفحه 165) اسی طرح فقہ حنفیہ کا یہ مسلمہ اصول ہے کہ اگر کسی کے کفر کی بہت سی وجوہات ہوں جس سے تکفیر واجب آتی ہو۔ان میں سے اگر ایک وجہ بھی تکفیر کے مانع ہو تو مفتی پر واجب ہے 114