امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 111
توحید ورسالت نماز، روزہ، حج ، زکوۃ کا اقرار کرے وہ مسلمان ہے۔آنحضرت ﷺ نے یہی طریق اپنا یا جب ایک بار مال غنیمت کی تقسیم پر ایک شخص نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ یا رسول اللہ خدا کا خوف کریں اور مال صحیح تقسیم کریں۔حضرت خالد نے کہا یا رسول اللہ کیا میں اس شخص کی گردن اڑا دوں ( کہ یہ دل سے مسلمان نہیں معلوم ہوتا ) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں مجھے حکم نہیں دیا گیا کہ میں دل کھول کر اور پیٹ چاک کر کے دیکھوں کہ یہ واقعی مسلمان ہے یا نہیں۔مودودی صاحب نے لکھا ہے کہ جو شخص کسی ایسے شخص کو کافر قرار دے جو خدا اور رسول پر ایمان رکھتا ہو تو یہ جسارت بندوں کے۔مقابلہ میں نہیں بلکہ خدا کے مقابلہ میں ہے۔(تفهیمات جلد دوم صفحه 146تا1481) علامہ جصاص نے سورۃ النساء آیت 94 کے بارہ میں لکھا ہے کہ ذلک عَمُومٌ فِي جَمِيعِ الْكُفَّارِ یعنی یہ آیت جملہ کفار کے بارے میں عام ہے کہ اگر ان میں سے کوئی سلام کرے تو یہ نہ (احکام القرآن جصاص جز 2صفحه 351) کہو کہ تم مومن نہیں ہو۔سید قطب نے لکھا ہے کہ دل کا ایمان کے مرتبہ تک پہنچنا ضروری نہیں یہ اسلام کافی ہے (في ظلال القرآن جز 26 صفحه 145,144) کہ کوئی خود کو مسلمان کہے۔ابوالوفا ثناء اللہ امرتسری نے لکھا ہے کہ جو کلمہ پڑھتا ہے اس کو ظاہری طور پر مسلمان سمجھا جائے یعنی مردم شماری میں مسلمان درج کیا جائے۔(تفسیر ثنائی جلد چهارم صفحه 304 زیر آیت سورة الحجرات: 14) سیه درست ہے کہ سورۃ نساء آیت وَلَا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ السَّلَامَ لَسْتَ مُؤْمِناً میں یہ ذکر ہے کہ ابتداء کس کو مومن کہا جائے لیکن فتبینوا کے مطابق تحقیق باقی رہتی ہے کہ انجام کار کسے مسلمان سمجھا جائے۔جیسا کہ ہم نے بیان کیا ابتدا تو یہ ہے کہ جو 111