امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں

by Other Authors

Page 109 of 328

امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 109

آیت یہ ہے:۔قَالَتِ الْأَعْرَابُ آمَنَّاقُلْ لَمْ تُؤْمِنُوا وَلَكِنْ قُوْلُوْا أَسْلَمْنَا وَلَمَّا يَدْخُلِ الْإِيْمَانُ فِي قُلُوبِكُمْ - وَإِن تُطِيعُوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ لَا يَلِتْكُمْ مِّنْ أَعْمَالِكُمْ شَيْئًا - إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ (الحجرات: 15) ترجمہ: دیہاتی کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے۔کہ دو کہ تم ایمان نہیں لائے ( بلکہ یوں ) کہو کہ ہم اسلام لائے ہیں اور ایمان تو ہنوز تمہارے دلوں میں داخل ہی نہیں ہوا۔اور اگر تم خدا اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرو گے تو خدا تمہارے اعمال میں سے کچھ کم نہیں کرے گا۔بے شک خدا بخشنے والا مہربان ہے۔یہ چودہ سو سال میں پہلی بار نہیں ہوا کہ کسی نے کسی کو کافر کہ دیا ہو۔اس آیت کی بنیاد پر مفسرین نے کئی فیصلے کئے ہیں۔اس آیت میں خدا تعالیٰ نے جس کے بارے میں آسمان سے گواہی دی کہ اس کے دل میں ایمان داخل نہیں ہوا اس کے بارے میں کہا کہ اسے خود کو مسلمان کہنے سے نہ روکو۔خدا تعالیٰ نے اس آیت میں جو منافقین کے بارہ میں ہے یہ تو کہہ دیا کہ ان کے دلوں میں ایمان نہیں ہے لیکن ان کو Right to Profess سے محروم نہیں کیا۔اسباب النزول میں دو صحابہ کے واقعات درج ہیں جنہوں نے لا الہ الا اللہ کہنے پر دو کفار کوقتل کر دیا تھا۔اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ناراض ہوئے تو صحابہ نے کہا کہ وہ اپنی جان بچانے کی خاطر کلمہ پڑھ رہا تھا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تو نے اس کا دل چیر کر دیکھا تھا۔اور اس پر بار باراظہار نا راضگی فرماتے رہے۔(اسباب النزول مؤلفه علامه سیوطی صفحه 134 135 زیر آیت نساء آیت 94 صفحه 99-100 سن اشاعت 2002ء بيروت قاهره) 109