امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں

by Other Authors

Page 108 of 328

امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 108

باوجود وہ حق مجھے حاصل نہیں ہوگا۔کیونکہ دستور اس میں مانع ہوگا۔مگر آرڈینینس اگر خلاف قرآن وسنت ہے تو اسے ضرور باطل قرار دیا جانا چاہئے اور یہ عدالت کے اختیار میں ہے۔جب ہم آئین پر نظر ڈالتے ہیں تو دیکھتے ہیں ہیں کہ آئین نے ہمیں غیر مسلم تو قرار دیا مگر ہمارا خود کو مسلمان کہنے کا حق نہیں چھینا۔یہ حق اس آرڈینینس نے چھینا ہے۔ہمیں قانون مسلمان نہیں سمجھتا، نہ سمجھے۔اگر کوئی عہدہ یا رعایات مسلمانوں کے لئے مخصوص ہیں تو وہ ہمیں بے شک نہ ملیں۔اس قانون کو نافذ کرنے والے یہ سمجھ رہے ہیں کہ وہ آئین پر عمل کر رہے ہیں جب کہ درحقیقت ایسا نہیں ہے۔قرآن نے واضح ہدایت دی ہے کہ جو خود کو مسلمان کہتا ہے اسے اگر آپ مسلمان نہ بھی کہیں تو اس کے اپنے آپ کو مسلمان کہنے کا حق قائم رہے گا۔اس ضمن میں سورۃ نساء کی یہ آیت قابل غور ہے۔يَا أَيُّهَا الَّذِيْنَ آمَنُوا إِذَا ضَرَبْتُمْ فِي سَبِيْلِ اللَّهِ فَتَبَيَّنُوا وَلَا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ السَّلَمَ لَسْتَ مُؤْمِنًا تَبْتَغُونَ عَرَضَ الْحَيَوةِ الدُّنْيَا فَعِنْدَ اللَّهِ مَغَانِمُ كَثِيرَةٌ كَذَلِكَ كُنتُمْ مِّن قَبْلُ فَمَنَّ اللَّهُ عَلَيْكُمْ فَتَبَيَّنُوا - إِنَّ اللهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيراً ـ (النساء :95) ترجمہ: مومنو! جب تم خدا کی راہ میں باہر نکلا کرو، تو تحقیق سے کام لیا کرو اور جو شخص تم سے سلام علیک کرے اس سے یہ نہ کہو کہ تم مومن نہیں ہو۔اور اس سے تمہاری غرض یہ ہو کہ دنیا کی زندگی کا فائدہ حاصل کرو۔سوخدا کے نزدیک بہت سی قیمتیں ہیں تم بھی تو پہلے ایسے ہی تھے۔پھر خدا نے تم پر احسان کیا تو (آئندہ) تحقیق کرلیا کرو۔اور جو عمل تم کرتے ہو خدا کو سب کی خبر ہے۔اس آیت کو سورۃ الحجرات کی آیت سے ملا کر پڑھا جائے تو مضمون واضح ہوتا ہے۔108