امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 107
لیکن موجودہ آرڈینینس میں ” عدوان“ کا پہلو غالب ہے محض دفع ضرر یا تحفظ مذہب مقصد نظر نہیں آتا۔مثال کے طور پر Pose as a Muslim صرف پروفیشن Profession تک بات محدود نہیں رکھی گئی بلکہ ایک ایسالا متناہی سلسلہ مشقت اور تنگی اور حرج کا کھول دیا گیا ہے کہ ایک ہی جست میں کئی اصول پامال کر دیئے گئے ہیں۔ضرر اور ضرار کے اصولوں پر اس عدالت کے فیصلہ دوبارہ پیٹیشن نمبر 3/1983-K کے پیرا 149 کے سب پیراC اور D خاص طور پر قابل توجہ ہیں۔ایمان و اسلام زیر نظر آرڈی نینس میں اذان مسجد اور اصطلاحات پر جو پابندی عائد کی گئی ہے اور اس کی خلاف ورزی پر جو تعزیر مقرر کی گئی ہے اس کا جائزہ اس نظر سے لیا جا چکا ہے کہ آیا ان معاملات میں شرعاً تعزیر مقرر کی جاسکتی ہے یا نہیں اور ہم یہ ظاہر کر چکے ہیں کہ تعزیر عائد کرنا نصوص قرآنی اور روح اسلام کے منافی ہوگا۔یہ بھی ہم عرض کر چکے ہیں کہ ان معاملات میں مفاد عامہ میں تعزیر جاری کرنا بھی درست نہیں کیونکہ یہ تعبدی امور سے متعلق باتیں ہیں اور اس کے بارہ میں مفاد عامہ کے اصول پر تعزیری قوانین بنانا حلت وحرمت کی نئی اور مستقل بنیادیں قائم کرنا ہے جو شرعاً درست نہیں۔ایک مزید پابندی زیر نظر آرڈ مینس میں یہ عائد کی گئی ہے کہ احمدی اپنے آپ کو مسلمان ظاہر نہ کریں۔گو یہ درست ہے کہ دستور احمدیوں کو اپنی اغراض کی خاطر غیر مسلم قرار دے چکا ہے اور دستور کو اس عدالت میں چیلنج نہیں کیا جاسکتا مگر اس آرڈینینس میں اگر کوئی بات خلاف قرآن وسنت ہو تو اسے یقیناً پینج کیا جا سکتا ہے اور ہمارا موقف یہ ہے کہ قرآن وسنت کے احکام کسی کو مسلمان کہلوانے کے حق کے بارہ میں واضح ہیں اور اگر قرآن وسنت کی رو سے ہمیں اپنے آپ کو مسلمان کہنے کا حق ملتا ہو تو اس حد تک یہ آرڈینینس باطل ہوگا اور اگر دستور مجھے یہ حق نہ بھی دیتا ہو تو آرڈینینس کے ابطال کے 107