امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں

by Other Authors

Page 102 of 328

امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 102

کہ وہ محرمات کی تحریم کے ساتھ ہی ان کے محرکات اور اسباب کو بھی بند کر دیتا، کیونکہ محرکات کے اسباب کو بند کئے بغیر لوگوں کو ان سے دور رکھنا ناممکن تھا۔اس سوال کا ایک پہلو یہ ہے کہ آیا مصلحت عامہ کے تحت جو تعزیری اقدامات کئے جائیں گے وہ حقوق کو مستقل طور پر زائل کرنے کا باعث ہوں گے یا نہیں یا بالفاظ دیگر کیا اولی الامر مصلحت عامہ کے تحت مستقل حلت و حرمت قائم کر سکتا ہے؟ جواب یہ ہے کہ مصلحت عامہ کا اصول خود یہ ظاہر کر رہا ہے کہ جو اقدام کیا جائے وہ دفع شر کی خاطر ہو، نہ کہ حلال کو حرام کرنے کی خاطر ، حلال، حلال ہی رہے گا اور صرف وقتی طور پر اس حلال کے استعمال پر پابندی عائد ہو جائے گی۔دائی حلت اور حرمت وہی رہے گی جو شریعت نے قائم کی ہے اس بارہ میں مولانا مودودی صاحب کا حوالہ بڑا واضح ہے کہ خیر و شر کی نئی بنیادیں قدریں ولی امر قائم نہیں کرسکتا۔( دستوری سفارشات صفحہ 153-154 از مودودی صاحب) اگر صورتحال یہ ہو تو آرڈنینس میں مندرجہ امور کے بارہ میں کوئی انسدادی ضابطہ تو درست ہو سکتا تھا، تعزیری قانون درست نہیں۔انسدادی ضابطہ سے مراد اس قسم کی کارروائی ہے جس طرح کی کارروائی ضابطہ فوجداری کی بعض دفعات کے تحت کی جاتی ہے اور اس کے بغیر جو انتظامی افسران ہیں وہ بعض احکامات صادر کرتے رہتے ہیں۔ان احکام کی حد تک مصلحت عامہ کا اصول اطلاق پاسکتا ہے۔اس سے تجاوز کرنا شریعت کی رو سے جائز نہیں ہوگا۔مصلحت عامہ کے اصول میں جو بنیادی اصول کارفرما ہے وہ الـتـوفيـق بين النصوص ومصالح العامة ہے۔(حوالہ الطرق الحکمیہ صفحہ 110 ابن قیم۔ترجمہ مولانامحمد تقی امینی ) جیسا کہ اس بارہ میں عدالتی مشیر قاضی مجیب الرحمن صاحب نے بھی یہی رائے دی ہے۔توفيق بَيْنَ النُّصُوص وَمَصَالِحُ العَامَّه کے اُصول کے مطابق مصلحت عامہ نصوص پر غالب نہیں آسکتی۔دونوں میں موافقت پیدا کی جانی ضروری ہے۔کسی ایک کو دوسرے پر 102