امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں

by Other Authors

Page 101 of 328

امتناع قادیانیت آرڈیننس 1984ٴ وفاقی شرعی عدالت میں — Page 101

ہوئے بھائی کا گوشت کھائے؟ اس سے تو تم ضرور نفرت کرو گے ( تو غیبت نہ کرو) خدا کا ڈر رکھو۔بے شک خدا توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے۔ذلِكَ وَمَنْ يُعَظَّمْ حُرُمَتِ اللَّهِ فَهُوَ خَيْرٌ لَّهُ عِنْدَ رَبِّهِ - وَأُحِلَّتْ لَكُمُ الأَنْعَامُ إِلَّا مَا يُتْلَى عَلَيْكُمْ فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْأَوْثَانِ وَاجْتَنِبُوْا قَوْلَ النُّورِ (سورة الحج آیت نمبر 30) ترجمہ: یہ ( ہمارا حکم ہے ) اور جو شخص ادب کی چیزوں کو جو خدا نے مقرر کی ہیں عظمت سے رکھے تو یہ پروردگار کے نزدیک اس کے حق میں بہتر ہے اور تمہارے لئے مویشی حلال کر دیئے گئے ہیں سوا ان کے جو تمہیں پڑھ کر سنائے جاتے ہیں۔تو بتوں کی پلیدگی سے بچو اور جھوٹی بات سے اجتناب کرو۔سد کے معنے روکنے اور بند کرنے کے ہیں اور ذَرَائِعَ ، ذَرِیعہ کی جمع ہے۔ہر کام کا کوئی نہ کوئی محرک ضرور ہوتا ہے اور کام دو قسم کے ہوتے ہیں اچھے اور برے۔اچھے کاموں کے لئے بھی وسائل و ذرائع ہوتے ہیں اسی طرح برے کاموں کے لئے بھی محرکات واسباب موجود ہیں۔اسلام اس لحاظ سے دیگر مذاہب کے مقابلے میں منفر دحیثیت رکھتا ہے کہ وہ بدی کو جڑھ سے اکھیڑ پھینکتا ہے اور اُسے بالکل ابتدائی مرحلے میں ہی ختم کرنے کے احکام صادر کرتا ہے۔اگر بدیوں کو آخری مرحلے تک پہنچنے کی کھلی چھٹی دید بجائے اور اس کے ابتدائی محرکات پر قدغن نہ لگائی جائے تو یہ بدی ایک تن آور درخت کی شکل اختیار کر لیتی ہے اور انسان کے قابو سے باہر ہو جاتی ہے۔فقہاء نے بدی کے محرکات و اسباب کو بند کرنے کا نام ”سَدَّ الذَّرَائِع“ رکھا ہے یعنی ایسا قول یا فعل جو خود تو جائز ہو لیکن ناجائز کام کا ذریعہ بنتا ہو۔اللہ تعالیٰ کی حکمت کا ملہ کا تقاضا تھا 101