نزولِ مسیح

by Other Authors

Page 11 of 40

نزولِ مسیح — Page 11

# متعلق بھی تورات و انجیل میں پینگوئیاں موجود تھیں مگر ان میں بھی آزمائش اور امتحان رکھا گیا تھا۔اگر وہ ایسی ہوتیں کہ ان کے کوئی غلط معنی نہ لئے جاسکتے تو یہودی اور عیسائی علماء آپ کا انکار کیوں کرتے۔پس پیشگوئیوں میں ضرور بعض اسرار مخفی ہوتے ہیں تاکہ قوم کی آزمائش ہو سکے تادہ امتحان کے بعد ایمان لانے پر ثواب کی مستحق ہو۔پیشگوئیوں میں ایمان بالغیب کی خاطر انفاء کا پردہ ضرور ہوتا ہے۔ہاں پیشگوئی کے ظہور پر ہوتا ہے تو صرف یہ ہوتا ہے کہ وہ مامور من اللہ جس کے متعلق پیشگوئی ہوتی ہے وہ مبعوث ہو کر خدا تعالیٰ کے الہام سے یا اپنے اجتہاد کے ذریعہ ان پیشگوئیوں کا صحیح حل پیش کر دیتا ہے جو لوگ اس حل کو معقول اور درست کچھ کر اس مامور من اللہ پر ایمان لے آتے ہیں وہ امتحان میں پاس ہو جاتے ہیں۔مگر جو لوگ مامور من اللہ کے پیش کردہ حل کو درست نہیں سمجھتے وہ پیشگوئیوں کے بعض ظاہری الفاظ پر اڑ بیٹھتے ہیں اور امتحان میں فیل ہو جاتے ہیں اور اس طرح مامور من اللہ پر ایمان لانے سے محروم رہ جاتے ہیں۔ہاں اگر مامور من اللہ کے اس حل کی کوئی نظیر بھی پہلے سے موجود ہو پھر وہ حل سونے پر سہاگے کا کام دیتا ہے اور ایمان لانے کی راہ میں اس سے آسانی پیدا ہو جاتی ہے۔چنانچہ حضرت عیسی علیہ السلام کا یہ فیصلہ کہ حضرت عیسی علیہ السلام کا فیصلہ ہوتا نہی ہی ایلیا ہے اور ایلیا کی آمد کی جو پیشگوئی تھی وہ یوجنا کے وجود میں پوری ہو گئی ہے۔یہی فیصلہ اسلام کے زمانہ میں نزول مسیح" سے متعلقہ پیشگوئی کو حل کر دیتا ہے اور انجیل کی اس پیشگوئی کو بھی حل کر دیتا ہے جسے عیسائی حضرت مسیح کی آمد ثانی سے متعلق سمجھتے ہیں۔یہ ایک حقیقت ہے کہ کبھی کوئی پہلا نبی آسمان سے امان نہیں اترا۔لہذا جس طرح ایلیا کی آمد کی پیچگوئی یونا کے وجود میں پوری ہوئی تھی کیونکہ یوحنا ایلیا کی روح اور قوت میں آیا تھا اور حضرت