نزولِ مسیح

by Other Authors

Page 38 of 40

نزولِ مسیح — Page 38

FA ہے جو امت میں سے آنحضرت میر کا ایک خلیفہ ہو گا اور اسے عیسی ابن مریم کا نام النسيج کا وصف رکھنے کی وجہ سے دیا گیا ہے۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ صحیح بخاری کی حدیث كيف غیر احمدیوں کی غلط تعبیر آنتُمْ إِذَا نَزَلَ ابْنُ مَرْيَمَ فِيكُمْ وَإِمَامُكُمْ مِنْكُمْ میں امام سے مراد امام مہدی ہے اور حدیث ہذا میں وَ اِمَامُكُمْ مِنْكُمْ کے الفاظ نازل ہونے والے " ابن مریم " کے متعلق استعمال نہیں کئے گئے بلکہ ایک دو سرے شخص امام مہدی کے متعلق بیان کئے گئے ہیں۔اس کے جواب میں واضح ہو کہ حدیث ہذا میں وَ اِمَامُكُمْ مِنْكُم جملہ اسمید بطور حال کے واقع ہوا ہے اور ذوالحال اس کا اِذَا نَزَلَ ابْنُ مَرْيَمَ فِيْكُمْ ہے اور اس حدیث میں " ابن مریم " سے کسی الگ امام کا ذکر نہیں بلکہ اسے امت میں سے قرار دیا " گیا ہے۔چنانچہ ہمارے ان معنوں کی تائید صحیح مسلم کی ایک دوسری حدیث كيف انتم إِذَا نَزَلَ ابْنُ مَرْيَمَ فِيْكُمْ فَاتَكُمْ مِنْكُمْ سے ہو رہی ہے۔صحیح بخاری کی حدیث میں وَاِمَامُكُمْ مِنْكُم جملہ اسمیہ ہے اور اس کا مبتدا هو محذوف ہے۔دوسری حدیث میں جو صحیح مسلم میں وارد ہے۔اِمَامُكُمْ مِنْكُمْ کی بجائے فَامَّكُم مِنْكُمْ پورا جملہ فعلیہ استعمال ہوا ہے۔ام فعل ماضی ہے جس میں هُوَ ضمیر غائب مستتر ہے۔اس کا مرجع صرف ابن مریم ہی ہو سکتا ہے لہذا جس طرح دوسری حدیث میں ابن مریم کو ہی است میں امت کا امام قرار دیا گیا ہے اسی طرح صحیح بخاری کی حدیث میں بطور جملہ اسمیہ یہی مضمون بیان ہوا ہے۔ایک تیسری حدیث میں وارد ہے يُوْشَكُ مَنْ عَاشَ ایک تیسری حدیث منكُم اَنْ تَلْقَى عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ إِمَا مَامَهْدِيًّا حَكَمًا عد لا يَكْسِرُ الصَّلِيْب وَيَقْتُلُ الْخِنْزِيرَ : سلے مسند احمد بن حنبل بروایت ابو هریره جلد ۲ صفحه ۲۱۱ مطبوعہ مصر