نزولِ مسیح — Page 12
عیسی علیہ السلام کا قطعی فیصلہ ہے کہ یوحنا ہی خدا کے نزدیک ایلیا ہے اسی طرح ” ابن مریم " کے نزول کی جو پینگوئیاں احادیث نبویہ میں مذکور ہیں یا مسیح کی آمد کی جو پیشگوئی انجیل میں مذکور ہے وہ حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی علیہ السلام کے وجود میں پوری ہو گئی ہیں۔کیونکہ آپ ہی حضرت عیسی علیہ السلام کے مثیل اور بروز ہو کر آئے ہیں۔جیسا کہ آپ کے الہامات نے اس بارہ میں فیصلہ دے دیا ہے کہ آپ مسیح ابن مریم کے قدم پر اور ان کے رنگ میں ہو کر آئے ہیں۔نزول کی حقیقت پیشگوئیوں میں " ابن مریم " کے نزول کی خبر میں " نزول" کے لفظ سے اہل علم کو کوئی غلطی نہیں لگنی چاہئے۔بے شک نزول کے لغوی معنی نیچے اترنا ہیں مگر محاورہ زبان عربی میں یہ لفظ کسی معزز آدمی کی آمد و ظہور کے لئے بطور اعزاز و اکرام استعمال ہوتا ہے۔چنانچہ خود اللہ تعالی نے سرور کائنات فخر موجودات سید ولد آدم حضرت محمد مصطفی کی شان میں قرآن مجید میں فرمایا ہے۔قَدْ اَنْزَلَ اللهُ إِلَيْكُمْ ذِكْرًا رَسُولاً تَتْلُوا عَلَيْكُمْ آيَاتِ اللهِ مُبَيِّنَاتٍ ليُخْرِجَ الَّذِيْنَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَتِ مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلى النور (الطلاق: ۱۱-۱۲) یعنی اے لوگو! اللہ تعالیٰ نے تمہاری طرف بہت بلند شان والے رسول کو نازل کیا ہے جو تم پر خدا تعالی کی روشن اور واضح آیات پڑھتا ہے تاکہ ایمان لانے والوں کو ظلمتوں سے نکال کر نور کی طرف لے آئے۔اس آیت میں آنحضرت میں کے لئے انزل اللہ کے الفاظ اعزاز و اکرام اور تائیدات و علوم سماریہ کے ساتھ آنے کے لئے استعمال ہوئے ہیں۔