نزولِ مسیح — Page 8
^ پیشگوئیوں کا طریق احباب کرام! انبیاء کی پیشگوئیوں کے متعلق عام طریق یہ ہے کہ وہ عموماً تمثیلی زبان میں ہوتی ہیں بالخصوص احادیث نبویہ کی وہ پیشگوئیاں جو وحی خفی کے ماتحت ہوتی ہیں ، لیکن پیشگوئیاں اگر وحی جلی میں بھی مذکور ہوں تب بھی ان میں ضرور کچھ نہ کچھ اخفاء کا پہلو رکھا جاتا ہے۔کیونکہ ایمان بالغیب کے لئے آزمائش اور امتحان کا پایا جاتا ضروری ہے۔امتحان کے بغیر ایمان کوئی فائدہ نہیں دیتا۔دیکھئے اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام بیچ بیچ دو فرشتوں کے کندھوں پر ہاتھ رکھے دمشق کے مشرق میں سفید منارہ کے پاس آسمان سے اتر آئیں اور لوگ انہیں بائیں ہیئت آسمان سے اتر تا دیکھ لیں تو پھر امتحان اور آزمائش جو ایمان کے لئے ضروری ہے مفقود ہو جانے سے ان پر ایمان لانے میں کیا کمال ہو گا؟ پس پیشگوئیاں تمثیلی زبان میں ہوتی ہیں اور تعبیر طلب ہوتی ہیں اور ان میں ضرور اخفاء اور پردہ رکھا جاتا ہے۔کیونکہ ایمان کا سارا حسن در اصل ایمان بالغیب میں ہی ہے واشگاف طور پر پردہ کا اٹھا دینا سنت الیہ کے خلاف ہے۔مامور کے زمانہ میں امتحان پس جب بھی خدا تعالیٰ کا مامور آتا ہے تو اس وقت قوم کو ایک امتحان در پیش ہو تا ہے۔یوں سمجھئے کہ ساری قوم کو امتحان کا ایک پرچہ دیا جانے والا ہوتا ہے۔اور مامور من اللہ لوگوں کو ان اہم سوالات کا جواب سمجھاتا ہے جو امتحان میں رکھے جانے والے ہوتے ہیں۔اس پر جو لوگ مامور من اللہ کو استاد مان کر اس کی طرف سے سکھائے گئے جوابات کو درست سمجھ کر اس کے مطابق اپنا پرچہ حل کر لیتے ہیں۔وہ خدا تعالی کے حضور کامیاب سمجھے جاتے ہیں۔اور جو لوگ مامور من اللہ کے جوابات کے مطابق پرچہ