نزولِ مسیح — Page 15
۱۵ بات کو مانتا چلا آیا ہے کہ نزول مسیح کی پیشگوئی جو احادیث نبویہ میں بیان ہوئی ہے وہ امام میدی کے وجود میں پوری ہو گئی اور امام مہدی علیہ السلام بموجب حديث لا الْمَهْدِى الا عيسى له معینی علیہ السلام کے بروز ہونگے۔چنانچہ اقتباس الانوار مصنف مولانا شیخ محمد اکرم صابری صفحہ ۵۲ پر لکھا ہے:۔و بعض بر آنند که روح عیسی در مهدی بروز کند و از نزول عبارت ہمیں بروز است مطابق ایس حدیث لَا الْمَهْدِيُّ الا عيسى - یعنی بعض کا یہ مذہب ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کی روح یعنی روحانیت مہدی میں بروز کرے گی اور نزول (ابن مریم) سے مراد یہی بروز ہے اور یہ امر حدیث لا الْمَهْدِيُّ الأَعِيْس کے مطابق ہے۔وفات مسیح میں بتا چکا ہوں کہ حضرت مسیح ابن مریم علیہ السلام کی وفات ثابت ہو جانے کے بعد ان کا اصالتا نزول محال قرار پاتا ہے کیونکہ خدا تعالی کا قانون مستمر جو قرآن و حدیث سے ثابت ہے یہی ہے کہ جو لوگ وفات پا جائیں وہ اس دنیا میں واپس نہیں آسکتے۔قرآن مجید سے یہ امر آفتاب نصف النہار کی وفات مسیح کا ثبوت از قرآن مجید طرح ثابت ہے کہ حضرت مسیح ابن مریم علیہ السلام وفات پاچکے ہیں اور اب وہ قیامت کے دن تک دوبارہ قوم میں واپس نہیں آئیں گے۔چنانچہ سورۃ مائدہ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام سے سوال ہو گا یعنی قیامت کے دن پوچھا جائے گا۔"وَاَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُونِي وَأُمِّي الْهَيْنِ مِنْ دُونِ اللَّهِ کہ کیا اے عیسی ابن مریم۔تو نے ان لوگوں سے کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو دو (ابن ماجه ابواب الفتن باب شدة الزمان)