نزولِ مسیح

by Other Authors

Page 14 of 40

نزولِ مسیح — Page 14

۱۴ تمام ضروری تعلیم دے دی ہے۔بادشاہ نے امتحان کے طور پر ایک چیز اپنی مٹھی میں رکھ کر لڑکے سے پوچھا۔بیٹا بتاؤ میرے ہاتھ میں کیا ہے؟ لڑکے نے اپنے علم کی رو سے جواب دیا کہ کوئی گول گول چیز ہے۔اس پر بادشاہ نے پوچھا۔اس کے متعلق کچھ اور بتاؤ ؟ اس نے کہا جناب پھر کی قسم کی کوئی چیز ہے۔بادشاہ نے کہا۔بیٹا کچھ اور تفصیل بتاؤ۔لڑکے نے کہا۔اس کے درمیان سوراخ بھی ہے۔بادشاہ نے کہا ذرا اور وضاحت کرو تو لڑکے نے جواب دیا۔جناب یہ چکی کا پاٹ ہے۔بادشاہ یہ جواب سن کر حیران رو گیا۔دراصل بادشاہ کے ہاتھ میں ایک قیمتی پتھر تھا جس کے درمیان سوراخ تھا۔نجومی نے کہا۔جناب! میں نے اسے سارا علم پڑھا دیا ہے اور اس نے اس پتھر کے متعلق کنی باتیں آپ کو صحیح بتائی ہیں۔مگر جہاں کچھ فکر کا دخل تھا اس میں یہ غلطی کر گیا ہے۔گویا اس کا اجتہاد ناقص ہے۔اس طرح پیشگوئی کی تاویل میں اجتہادی غلطیاں ہو جاتی ہیں۔حدیثوں کی پیشگوئیاں تو صحیح ہیں مگر ان کی تعبیر میں بعض اوقات علماء اپنے اجتہاد میں غلطی کھا جاتے ہیں جس طرح بادشاہ کے اس نجومی لڑکے نے اجتہاد کے موقع پر غلطی کھائی۔چونکہ قرآن مجید اور احادیث صحیحہ حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات پر قطعی گواہ ہیں۔اس لئے جس شخص پر بعد از غور و فکر یہ حقیقت کھل جائے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام وفات پا چکے ہیں وہ تو " ابن مریم کے نزول کے متعلق پیشگوئیوں کی وہی تعبیر درست قرار دے سکتا ہے جو حضرت بانی سلسلہ احمدیہ مسیح موعود علیہ السلام نے کی ہے۔پس ضروری ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعوئی کی صداقت معلوم کرنے کے لئے سب سے پہلے اس بات کو حل کیا جائے کہ آیا حضرت مسیح ابن مریم علیہ السلام وفات پاگئے ہیں یا وہ اپنے خاکی جسم کے ساتھ آسمان پر زندہ اٹھائے گئے ہیں۔حیات مسیح کے قائلین کے برخلاف مسلمانوں میں سے ایک گروہ پہلے سے اس