نزولِ مسیح — Page 10
۔وہ صدیوں سے لگائے بیٹھے تھے۔ان کی طرف سے حضرت مسیح ابن مریم پر یہ سوال بھی ہوا کہ اگر یسوع اسرائیلیوں کا مسیح موعود ہے تو پھر ایلیا کہاں ہے؟ جب حضرت مسیح ابن مریم کے سامنے یہ سوال پیش ہوا تو انہوں نے اس کا یہ جواب دیا کہ ایلیا تو آچکا اور لوگوں نے اسے نہیں پہچانا۔بلکہ جو چاہا اس سے کیا۔اس سے حواری جان گئے کہ ایلیا سے مراد حضرت عیسی علیہ السلام کی یوحنا یعنی حضرت یحی ہیں جو ان کے نزدیک ایلیا کی روح اور قوت میں آئے ہیں۔(متی باب ۱۱ آیت ۱۴ ۱۵ متی باب ۱۷ آیت ۱۰ تا ۱۳) یہودیوں نے حضرت عیسی علیہ السلام کے اس تاویلی جواب کو درست نہ سمجھا اور پیشگوئی کے ظاہر لفظ ایلیا پر اڑ کر اس کے احسان آنے کے قائل رہے۔اس طرح وہ حضرت عیسی علیہ السلام کے تادیلی معنی نہ ماننے کی وجہ سے امتحان میں فیل ہو گئے۔پھر حضرت مسیح ابن مریم علیہ السلام سے پوچھا گیا کہ کیا تم یہودیوں کے بادشاہ ہو ؟ حضرت مسیح علیہ السلام نے اس کا جواب دیا کہ میری بادشاہت اس دنیا کی نہیں اور اس طرح بتایا کہ میری بادشاہت آسمانی اور روحانی ہے نہ کہ زمینی بادشاہت۔یہودیوں نے مسیح کی بادشاہت سے متعلقہ پیشگوئی کی اس تعبیر کو بھی قبول نہ کیا اور اکثر ان میں سے حضرت عیسی علیہ السلام پر ایمان لانے سے اس وجہ سے محروم رہ گئے کہ یسوع داؤد علیہ السلام کی طرح تخت سلطنت پر نہیں بیٹھا۔اس کے بالمقابل عیسائیوں نے حضرت مسیح علیہ السلام کے دونوں جوابوں کو درست سمجھا اور ان کی تاویلات کو قبول کر لیا اور اپنے زمانہ کے امتحان میں کامیاب ہو گئے اور حضرت مسیح علیہ السلام پر ایمان لے آئے۔ہمارے رسول کریم آنحضرت مال کے متعلق پیشگوئیوں میں اختفاء صلی اللہ علیہ وسلم کے صلا