نزولِ مسیح — Page 21
اس سوال کا جواب یہ ہے کہ ایک دوسری حدیث میں رسول الله لعلم العلوم الجواب نے معین طور پر وہ الفاظ بھی بیان فرما دیئے ہیں۔جو آپ استعمال فرما میں گے۔چنانچہ تفسیر در منشور میں بحوالہ ابن جریر حضرت عبداللہ بن مسعود سے مروی ہے۔إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيْدٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهِيدًا عَلَيْهِمْ مَا دُمْتُ فِيْهِمْ فَإِذَا تَوَفَّيْتَنِي كُنْتَ اَنْتَ الرَّقِيْبَ عَلَيْهِمْ" - در منشور مصنف جلال الدین سیوطی جلد ۲ صفحه ۱۷۴ دار المعرفه الطباعة والنشر بیروت لبنان) یعنی آیت إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيْدٍ کی تفسیر میں حضرت عبد اللہ بن مسعود سے مروی ہے کہ رسول اللہ علی نے فرمایا۔میں ان لوگوں پر گواہ ہوں جب تک میں ان میں رہا۔جب تو نے مجھے وفات دے دی تو (اے خدا) ان پر تو ہی نگران تھا۔اس بیان کا حضرت عیسی علیہ السلام کے بیان سے سوائے لفظ فَإِذَا کے لفظ لفظاً مطابق ہے۔آنحضرت مال کے بیان میں فاذا کا لفظ ہے اور حضرت عیسی علیہ السلام کے بیان میں فَلَمَّا کا لفظ ہے۔اِذا اور لَمَّا دونوں ہم معنی لفظ ہیں۔اور حرف شرط (جب) کے معنوں میں استعمال ہوتے ہیں۔اس اونی لفظی عادت سے اقولُ كَمَا قَالَ کے مطابق بیان لگ بھگ بھی ہو جاتا ہے اور كُنتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَّا دُمْتُ فِيْهِمْ اور تَوَفَّيْتَنِي كُنْتَ اَنْتَ الرَّقِيبٌ عَلَيْهِمْ میں دونوں بیانوں میں لفظی تطابق بھی ثابت ہو جاتا ہے۔پس جب تَوَفَّيْتَنِی کے معنی "وفات دی تو نے مجھے " آنحضرت میں ایم کے بیان میں لیے جاتے ہیں تو حضرت عیسی علیہ السلام کے بیان میں بھی تُو فَيْتَنِی کے یہی معنی لئے جائیں گے۔کیونکہ رسول اللہ میں نے حضرت عیسی علیہ السلام کے الفاظ