نزولِ مسیح — Page 9
4 حل نہیں کرتے وہ ناکام رہ جاتے ہیں۔یاد رہے کہ کبھی کوئی مامور من اللہ دنیا میں ایسا نہیں آیا جس کے موافق یا مخالف دلائل موجود نہ ہوں کیونکہ کسی مامور من اللہ کے متعلق بھی سابق پیشگوئیاں ایسی صاف اور واضح نہیں ہوتیں کہ ان میں آزمائش بالکل مفقود ہو جائے۔دیکھئے آج سے قریبا دو ہزار سال حضرت عیسی علیہ السلام کے وقت امتحان پہلے جب حضرت عیسی علیہ السلام خدا تعالیٰ کی طرف سے بنی اسرائیل کے موعود صحیح کے طور پر مبعوث ہوئے تو یہودی اس وقت اپنے انبیاء کی سابقہ پیشگوئیوں کی بنا پر یہ سمجھے بیٹھے تھے کہ ان کے موعود مسیح کو خدا تعالیٰ اس کے باپ داؤد کا تخت دے گا۔پھر ایک پیشگوئی تھی کہ ان کے مسیح موعود سے پہلے ایلیا (الیاس نبی) کا دوبارہ دنیا میں آنا ضروری ہے۔چنانچہ ملا کی ۴/۵ میں لکھا تھا کہ :۔"دیکھو خداوند کے بزرگ اور ہولناک دن کے آنے سے پہلے میں ایلیا کو تمہارے پاس بھیجوں گا۔" اور الیاس کے متعلق سلاطین کی کتاب نمبر ۲ میں لکھا تھا کہ وہ ایک رتھ میں بیٹھے ہوئے بگولے کے ذریعہ آسمان پر چلا گیا۔(دیکھو نمبر ۲ سلاطین ۲/۱۳) ملاکی نبی کی پیشگوئی کے مطابق یہودی ایلیا کا ہولناک دن آنے سے پہلے (یعنی مسیح کے آنے سے پہلے) آنا ضروری سمجھتے تھے۔اس لئے جب حضرت عیسی علیہ السلام نے دعوی نبوت کیا اور ظاہر کیا کہ میں اسرائیل کے لئے مسیح موعود ہوں اور یہودیوں کا بادشاہ ہوں تو چونکہ حضرت عیسی علیہ السلام بظاہر بادشاہ نہیں تھے بلکہ مسکینی کی زندگی بسر کر رہے تھے اس لئے یہودیوں نے آپ کے صحیح موعود ہونے سے انکار کر دیا کیونکہ حضرت عیسی علیہ السلام کے وجود میں انہیں ظاہری طور پر بادشاہت ملنے کی وہ امید پوری ہوتی نظر نہ آئی جو امید