نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 59
معالجہ وغیرہ سے نطفہ کی ترقی پاکر اس آدمی نے اپنی عورت سے بیٹا پیدا کیا تب اس کی دولت کے مالک کشیترج داَدَرس نام دو بیٹے ہوئے اس پر مُن جی کہتے ہیں کہ جس کے تخم سے جو پیدا ہوا ہو وہ اس کی دولت کو پائے‘‘۔۱۶۲ شلوک۔’’ مخنث و بیمار ووفات یافتہ اس قسم کے آدمیوں کی زو جہ میں از روئے دھرم والد وغیرہ کے حکم سے دیور وغیرہ نے جو بیٹا پیدا کیا ہے وہ کشیترج کہلاتاہے‘‘۔۱۶۷’’مخنث وغیرہ کو شادی کرنے کی خواہش ہو تو شادی کر کے حسب لیاقت اس عورت میں بیٹا کر ا کے اس بیٹے کو حصہ دیوے‘‘۔۲۰۳ ’’براہمن سے براہمنی میں جو لڑکا پیدا ہو وہ تیسرا حصہ لیوے اور کشتر یا کا بیٹا دوسرا حصہ لیوے اور شودر کا بیٹا ایک حصہ لیوے‘‘۔۱۵۱’’برہمن و کشتری وویشیہ ان تینوں ورن کی عورت میں براہمن سے بیٹا پیدا ہوا ہو یا نہ ہوا ہو لیکن از روئے دھرم کے شودر اکے بیٹے کو دسویں حصہ سے زیادہ نہ دیوے‘‘۔۱۵۴’’را جہ برہمن کی دولت کو کبھی نہ لیوے مگر دیگر ورنوں کی دولت کو بحالت عدم موجودگی ان کے فرزند وغیرہ مرقومہ بالا کے لیوے‘‘۔۱۸۹’’را جہ وقت مصیبت میں بھی براہمنوں کو خشم گیں نہ کرے کیونکہ ان کے غصہ کرنے سے را جہ مع فوج و سواریوں کے نیست و نابود ہوجاتا ہے‘‘۔۳۱۳ ’’جن براہمنوں نے اگن کو سَرب بھکشی اور مہا سَمدر کوکہاری اور چندرمان کو کھئی روک والا کیا ان برہمنوں کو خشم گیں کر ا کے کون فانی نہ ہوگا‘‘۔منتر۳۱۴’’جواری۔داسی خواہ داسی کی داسی میں شودر سے جو لڑکا پیداہو وہ والد کے حکم سے حصہ پاسکتا ہے یہ دھرم میں داخل ہے‘‘۔۱۷۹ یہ ہیں تہذیب یافتہ قوم کے احکام!! اصل بات یہ ہے کہ ایرانی اور ترک اور ہندی قوموں نے عورت کو نہایت حقیر غلام اور قابل نفرت شے سمجھا ہے۔ان قوموں کے اصول میں داخل تھا کہ عورت کسی وقت بھی قابل اعتبار نہیں ہوتی۔ان باتوں کو صفائی سے سمجھنے کے لئے فارسی زبان کے ان مکروہ اشعار کو پڑھو جن میں عورتوں کو بہت مکروہ ناموں اور مذموم صفتوں سے یاد کیا ہے اور تاکید کی گئی ہے کہ جس کا نام زن ہے وہ گردن زدنی چیز مخنث کی اولاد ۲۔ملاحظہ کرو