نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 312 of 358

نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 312

کی قوم کو تمہارے ویدوں نے کیا نفع دیا۔اگر نفع دیتا تو ان پڑھ کیوں رہتے اور کیا امید ویدوں سے ہوسکتی تھی۔دیانند نے خود لکھا ہے کہ اور بلاد میں جو لوگ آباد ہوئے وہ برہمن نہ تھے بلکہ۔۔۔۔۔وغیرہ تھے۔پس ثابت ہوا کہ عرب عذر کر سکتے ہیں نہ غیر عرب۔سوال نمبر۱۱۳۔لا تبدیل لکلمات اللہ پر اعتراض کیا ہے۔اگر کلمات سے مراد قانون قدرت ہے تو قرآن میں خلاف قانون قدرت کیوں۔پھر گالی دی ہے۔اور اگر آیات ہیں تو نسخ کیوں۔محقق کتنے ہی احکام قرآن سے دکھا سکتا ہے جو پہلے جائز کئے اور پھر ممنوع۔شراب پہلے حرام نہیں کیا پھر حرام کیا۔اسی طرح بیت المقدس قبلہ تھا پھر نہ رہا ؟ الجواب:جس کو تم لوگ قانون قد رت کہتے ہو اس کے خلاف بھی قرآن کریم میں ایک کلمہ نہیں۔مگر یہ یاد رہے کہ قانون قدرت میں تھیو ریاں خیالی فلسفہ پیش نہیںکرنا۔سائنس کے خلاف کچھ دکھاؤ۔اور نسخ بمعنے ابطال حکم بھی قرآن کریم میں قطعاً نہیں کیا معنی؟ قرآن کریم میں کوئی ایسا حکم موجود نہیںجس پر کسی زمانہ میںتو ہم کوعمل درآمد کرنا ضرور تھا اور اب اس پر عمل درآمد کسی طرح جائز نہ ہو بلکہ قطعاًممنوع ہو۔مثلاًبیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے کا حکم جس آیت میں ہووہ آیت قرآن کریم میںتو قطعاًموجود نہیں۔اسی طرح ایسی آ یت بھی کوئی نہیں اور قطعاً قرآن کریم میں نہیںکہ جس میں لکھاہو شراب حلال ہے تم پیا کرو۔ہاں یہ بات ہے کہ شراب پہلے ہی حرام کیوں نہ کیا دیر کے بعد کیوں حرام کیا۔مگر اس میں نسخ کس حکم موجو د فی القرآن کا ہوا۔نزول ارشادات آخر بتدریج ہوا کرتا ہے۔کیا وید کے تمام احکام بلا کسی ترتیب کے یکدم رشیوں نے سمجھے تھے ؟نہیںاور ہرگز نہیں۔آپ تو کہتے ہیںکہ محقق کتنے احکا م نکال سکتا ہے کہ پہلے جائز کئے پھر ممنوع۔ہاں مجھے تو کوئی آیت ایسی معلوم نہیںجس سے یہ پایا جائے کہ فلاں حکم جائز یا ضرور ہے۔پھر بعینہ اسی حکم کو کہا گیا ہو کہ یہ حکم ممنوع ہے۔نہیںنہیںاور ہر گز نہیں۔ہم کو ہمارے قرآن نے کہیں نہیں کہا کہ فلاں حکم جو فلاں آیت میں ہے اب قطعاًمنسوخ ہو گیا۔ہمارے ہادی نبی کریم ﷺنے نہیںفرمایا کہ فلاں