نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 281 of 358

نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 281

تم اللہ کے محتاج ہو اور اللہ ہی غنی ہے۔اگر آریہ کے وکیل کو قرآنی سمجھ نہ تھی تو کا ش دنیا کے معاملات پر ہی نظرہوتی۔قرآنی صداقتیں تو ہر جگہ اور ہر وقت نمایا ں ہیں۔کیا جو شخص پرامیسری نوٹ لیتایا سیونگ بینک میں ایک غریب سود خوار اپنا روپیہ رکھتاہے ان کی غرض یہ ہوتی ہے کہ گورنمنٹ غریب ہے۔ہر گز نہیں۔رہی یہ بات کہ خداکے سپر د کیا ہوا مال بڑھتا ہے یا نہیں اس امر کی صداقت تمام جہان کو کھیتوں کے نظارہ سے ظاہر ہوجاتی ہے کہ ایک ایک دانہ سے کتنا غلہ حاصل ہوجاتا ہے یہی مطلب ہے اس آیت کا جس میں لکھا ہے  (البقرۃ :۲۴۶) اس کا ترجمہ ہواکہ کون ہے جو اللہ کے حضور اعلیٰ نیکی کرے( یا ا س کی رضا کے لیے مال کو دے) بڑھا کر دے گا اس کے لیے اللہ تعالیٰ اور اللہ لیتا ہے اور بڑھا تاہے اور اسی کی طرف تم جائو گے اور بدلہ پائو گے۔(قرضہ کا الزامی جواب دیکھو منو ادہیائے نمبر۶۔۹۴) بے فکر ہو کر اس دہرم کو کرتا ہوا بدہ پوروک۔دیدانت شاستر کو سن کر تینوں ر ن یعنی قرض کو ادا کر کے سنیاس دہارن کرے۔سوال نمبر۹۰۔خدا چا ہتا تو سب کو ایک دین پر کر دیتا۔سوالات۔ایسا کیوں نہیں کیا ،مذا ہب کاخون بہتا دیکھنا اسے خوش ہے۔شیر بھیڑیا کا جنگ رو میوں کی طرح دیکھتا ہے ٹیلی میگس ایلی میگس آکر خون بہا ئے۔الجواب۔پھر اعتراض کیا ہوا۔کیا تما م مخلوق الٰہی ایک ہی دین پر ہے اور قرآن نے واقعہ کے خلاف کہا ہے۔خدا ہے تو بھی ما نتا ہے۔سرب شکتیما ن ہے تو ما نتا ہے۔تمام خلقت اسکے قا بو میں ہے تو مانتا ہے سب کے اندر ہے یہ آریہ سماج کا عقیدہ ہے کیا تم نہیںما نتے اور نہیں جانتے کہ وہ