نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 237 of 358

نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 237

کے سبب سے تیرے بلانے پر پہاڑیوں سے تیری آواز سن کر چلے آئیں گے تو کیا میں جو ان کا حقیقی مالک اور رب پرورش کنندہ ہوں میرے بلائے پر یہ ذرات حیوان کے جمع نہیں ہو سکیں گے ؟ اس نظارہ اور فعل پر بتاؤ کیا اعتراض ہے؟ پس ترجمہ آیت کریمہ کا یہ ہوا فرمایا۔پس لے پرندوں سے چار پھر ان کو مائل کر لے اپنی طرف یعنی اپنے ساتھ ہلا لے پھر رکھ پہاڑی پر ان میں سے ایک ایک کو۔پس بلا ان کو۔تیرے پاس آئیں گے دوڑتے۔سوال نمبر ۷۲۔ہفتہ کے دن مچھلی پکڑنے والوں کو خدا نے سؤر۔بندر بنا دیا۔الجواب۔اس کا جواب ایسا صاف ہے کہ اس کے لئے ان آیات کا لکھنا اور ترجمہ ہی کافی ہے جن میں یہ واقعہ مذکور ہے ہر ایک پڑھنے والا ذرا سی غور سے سمجھ لے گا کہ بات کس قدر صاف ہے اور یہ دنیا کی پرستار قوم حقائق کے فہم سے کس قدر دور اور کورانہ تعصب سے کس قدر قریب ہے۔ہمارے نزدیک اس کے حل کے لئے اس سے زیادہ بہتر طریق نہیں کہ ان آیات کو یکجا لکھ کر دکھایا جاوے جن میں یہ قصہ ہے خاص غور کے لئے ایک لفظ جس کے معنی ہیں کہ ان میں اچھے صالح ہونے والے بھی ہیں اور دوسرا لفظ جس کا ترجمہ ہے کہ یہ سب کچھ اس لئے کیا کہ یہ باز آجائیں اور تیسرا لفظ  کہ یہ بندر وسؤر شیطان کے بندے تمہارے یہاں بھی آئے۔اور چوتھا لفظ   (المائدۃ :۶۲) ہے جس کے معنی ہیں کہ یہ کافر آئے اور کافر ہی نکلے۔ان پر اور ایسے الفاظ پر عقل مند غور کریں جو اس قصہ میں آئے۔