نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 226
جیسا موتی ہر گز ضائع نہیں کیا جاتا۔غور کرو ! تمھاری ان فضول گوئیوں کا جواب برسوں پیشتر خدا تعالیٰ دے چکا ہے اور تم نے اپنے ہاتھو ں سے ایک عظیم الشان پیشگوئی پوری کر دی اور خدا کے منہ کی باتیں تمھارے منہ سے سچی ثابت ہو گئیں مگر کون جانتاہے کہ تمھاری خوش قسمتی ہے یا بد قسمتی۔اس لئے کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔(البقرۃ:۲۷ ) مگر از بس کہ تم لوگ کو دن ہو اس لئے ضروری ہے کہ بات کو کھول کر بیان کیا جائے۔سنو!تبش رشی نے تو خود آگ میں ہاتھ ڈالاتھا مگر ابراہیم علیہ السلام خود آگ میں نہیں کودے تھے اور نہ مومنوں، مخلصوں، راستبازوں اور اللہ کے رسولو ں کا یہ فعل ہوتا ہے کہ اللہ کو آزمائیں بلکہ ان کو حکم ہے (البقرۃ :۱۹۶) یعنی اپنے تیئں خود ہلاکت میں نہ ڈالو۔اسی سنت الٰہی کی اتباع میںحضرت ابراہیم علیہ السلام خود آگ میں کود کر نہیں گرے تھے بلکہ لوگوں نے کہا۔(الانبیآء :۶۹) اب خدا تعالیٰ کی اسی سنت کے مطابق تم اور سارا جہان اور اس سفلی جہان کی ساری طاقتیںاور شوکتیںاور عداوتیںہمارے امام مہدی اور مسیح کو آگ میںڈال کر دیکھ لیں۔یقینا خدا تعالیٰ اپنے زندہ او رتازہ وعدہ کے موافق اس مہدی کو اسی طرح محفوظ رکھے گا جیسے پہلے زمانے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اور ہمارے نبی کریم ﷺ کو محفوظ رکھا۔یہ ہمارا آقا غلام احمد ہے اس لئے ضرور ہے کہ احمد محمد ﷺ کی غلامی او راتباع کی برکات اورثمرات اسے حاصل ہوںجیسے خدا تعالیٰ نے اس کے متبوع کو واللّہ یعصمک من الناس کا وعدہ دیااسی طرح اسے بھی برسوں پیشتر ’’یعصمک اللّہ ولو لم یعصمک الناس‘‘ کا وعدہ دیا۔یہ خدا کا مسیح او ر مہدی یقیناتمھاری آگ سے بچے گا اورضرور بچے گا۔اس نے طاعون جیسی آگ کی خبر دی کہ آنے والی ہے اور کہا کہ میرے لئے آسمان پر ٹیکہ لگ چکاہے آخر وہی ٹیکا سچا نکلا اور زمینی ٹیکہ بیکار ہوگیا۔عیسائی لوگوں ،برہموؤں،سکھوںاور آریہ سماج نے پھر خصو صیت سے لیکھرام کے واقعہ پر کیا