نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 224
انھوں نے مشورہ کیا کہ اس کے لئے ایک مکان بناؤاور اسے آگ میں ڈالو۔انھوں نے ابراہیم کی نسبت ایذاء رسانی کا منصوبہ کیا۔سو ہم نے انھیںاس منصوبہ میںپست اور ذلیل کیا۔ان آیتوں سے کس قدر صاف ظاہر ہوتا ہے کہ جو تم نے سمجھا ہے بالکل لغو اور غلط ہے۔اس قصہ میںیہ چند کلمات طیبات ہیں جو مقام غور اور توجہ کے قابل ہیں۔پہلا کلمہ ہےدوسرا تیسرا چوتھا۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کی سنت ہے کہ ہر ایک گذشتہ نبی کا قصہ ہمارے نبی ﷺاور آپ کے پیرؤوں کے صدق اورحقیقت کے ثبوت کے لئے ہوتا ہے اس لئے ہمیں اور ہر ایک مسلمان کو ضرور ہوا کہ حضرت نبی کریم اور مولانا رؤف رحیم کا ماجرا اس بارے میں دیکھیں۔اس لحاظ سے جب قرآن کریم کو پڑھتے ہیں تو اپنے نبی رحمۃ للعالمین ﷺ الیٰ یوم الدین کے بارہ میںیہ کلمات ہمیں ملتے ہیں۔(۱)(الانفال :۳۱)اور (الطارق :۱۶) (۲) آپ کے دشمنوں کا ذکر کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: (المجادلۃ :۲۰) (۳)کلمہ طیبہ ہے جو بخوبی آگ کے مسئلہ کو حل کر تا ہے۔(المائدۃ:۶۵) (۴)کلمہ ہے(المومن:۵۲) ان مقامات کا مقابلہ دونوں قصوں، قصہ حضرت نبی کریم اور قصہ حضرت ابراہیم کے ساتھ کرو۔وہاں اگر جناب ابراہیم ؑکے مخالفوں نے آگ جلائی اور حرّقوا کا فتویٰ دیا تو یہاں تمام بلاد عرب نے