نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 213 of 358

نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 213

اور کہا کون ہے جو اسے ذبح کر سکتا ہے۔عربوں میں کوئی بھی اس سے تعرض نہیں کر سکتا تھا آخر بنو یشکر قوم تک پہنچا اور علیاء بن ارقم کی نظر پڑا۔تب وہ بول اٹھا میں اس دنبہ کو کھالوں گا۔تب قوم کے لوگوں نے اسے روکا اور ملامت کی لیکن علیا ء اپنے ارادہ پر قائم رہا۔تب انہوں نے اس بات کو اپنے سردار تک پہنچایا۔اس نے یہ فقرہ کہا جو اب کہاوت کے طور پر مشہور ہے۔انک لا تعدم الضان ولکن تعدم النفع۔لوگوں نے ملامت تو بہت کی مگر علیاء نہ ٹلا اور دنبہ کو ذبح کر کے کھاگیا اور بادشاہ کے پاس چلاگیا اور کہا کہ میں نے ایک بدی کی ہے اور بہت بڑی بدی کی ہے لیکن آپ کا عفو اس سے بھی بڑھ کر ہے اور اپنا سارا ماجرا سنایا تب بادشاہ نے کہا اب میں تجھے قتل کر دوں گا تب علیا ء نے وہ مشہور قصیدہ پڑھا جس کا ایک شعر ہم نقل کرتے ہیں۔وان ید الجبار لیست بصعقۃ ولکن سماء تمطر الوبل والدیم سوال نمبر ۵۸۔بنی اسرائیل کو بجلی سے ہلاک کیا۔الجواب۔انتشاری بجلی سے ہلاکت اور نقصان اگر تم نے نہیں سنا تو کسی سائنس دان سے دریافت کرو اور کچھ ہم بھی بتا دیتے ہیں یہ تو ظاہر ہے کہ جس وقت جناب موسٰی علیہ السلام چند منتخب لوگوں کو طورکے قریب لے گئے اس وقت پہاڑ پر آتش افشانی ہو رہی تھی اور بجلیاں اپنی چمک دمک دکھلا رہی تھیں۔جناب موسٰی ؑ نے حسب ارشاد الٰہی قوم کو روک دیا تھا کہ پہاڑ کے اوپر کوئی نہ جاوے اور ہم نے ظاہر کا لفظ اس لئے استعمال کیا کہ بائبل کو قرآن پر پال نے ترجیح دی ہے پس اس نے بائبل کو پڑھا ہوگا۔کتاب خروج میں مفصل موجود ہے۔اور قرآن کریم کے ان کلمات طیبات پر اعتراض کیا ہے۔۱۔ ۲۔(البقرۃ:۵۶،۵۷) پکڑلیا تم کو کڑک نے اور حال یہ ہے کہ تم دیکھتے تھے۔پھر اٹھایا تم کو تمہاری موت کے بعد