نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 205 of 358

نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 205

اور بھی اس کے فہم میں سہولت ہوتی ستیارتھ کے صفحہ ۲۵۴۔اہم۔برہم۔اسمی کے ارتھ میں لکھا ہے کہ یہاں تاتستھ اپادھی ہے۔کیا معنی۔یہاں استعارہ ظرف ومظروف کا ہے۔پس معنی آیت کے اس صورت میں یوں ہوئے۔جب بلند کیا تم پر اس چیز کو جو طور میں نازل ہوئی۔آگے کافقرہ اس معنی کی طرف راہ نمائی بھی کرتاہے۔(البقرۃ:۶۴)لو جو دیا ہم نے تم کو بڑی قوت سے اور عمل درآمد میںلاؤ جو اس میں ہے۔سوال نمبر ۵۲۔سلیمان سے چیونٹے نے بات کی۔الجواب۔اوّل دیکھو سوال نمبر ۵۳کا جواب اور پھر سنو!اگر سلیمان نملہ سے بات نہیں کرسکے اور نہ اس کی بات سن سکے ہیں تو یقین پڑتا ہے کہ اگنی۔وایو۔ادت۔انگرہ کے ذریعہ وید کا پہنچنا بھی غلط ہے۔سنو!نملہ کیڑے تو آخر حیوان ہے۔آگ۔ہوا۔ادت۔سورج۔انگرہ تو بسائط وعناصر ہیں۔جب ایک حیوان بات نہیں کرسکتا تو عناصر کیونکر بات کرسکتے تھے۔پھر مادری اور کنتی کے متعلق یہ کہنا کہ انہوںنے سورج۔وایو۔چندرمان سے بیٹے لئے کیونکر صحیح ہو گا۔عناصر کیونکر جماع کر سکتے تھے اور ان کا نطفہ کیوں کر رہ سکتا تھا۔پھر ارجن نے ناگنی (سانپنی)سے شادی کس طرح کی۔سملاس نمبر۸صفحہ ۲۹۸۔دیانند نے ستیارتھ میں پاربتی۔ناگی۔تلسی۔گلابی۔گیندا۔گنگا۔کوکلا سے شادی کرنے کی کیوں ممانعت کردی۔بتاؤ تو سہی کیا کوئی ان نباتات وحیوان سے شادی کر سکتا ہے؟اور سنو! تمہارے آریہ ورتی اعتقاد رکھتے تھے کہ زمین بیل کے سہارے قائم ہے مگر آج کل کی نکتہ چینی سے بچنے کے لئے تمہارے مہارشی نے اکہشا کے معنی میں جس کی سنسکرت میں بیل کے معنے بھی ہیں کہہ دیا کہ یہاں یہ معنی مناسب نہیں کیونکہ یہاں سورج کو زمین کے سیراب کرنے کی وجہ سے سورج کو اکہشا کہا گیا ہے۔