نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 5 of 358

نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 5

کے لئے بھی بنایا ہے اور کاہلوں سستوں کے لئے تو دوسری جگہ مشن کمپونڈ بھی ہیں اور اس قدر کتابیں اور رسائل اس مطلب کے لئے نکالے گئے کہ ہماری گنتی سے بالکل باہر پڑے ہیں وغیرہ وغیرہ۔یہ لوگ مشرق میں کہاں پہنچے ہیںکہ حیرت ہوتی ہے!! مگر دیکھ لو کہ وہ شہر ان فتن سے بالکل امن میں ہے اور جو رسومات اس میں جس عظمت کے لئے لامعلوم زمانہ سے قائم کی گئی وہ اسی طرح ادا کی جاتی ہیں اس موقع پر ابراہیم علیہ السلام کا ذکر اس لئے ہے کہ وہ یہود و نصارٰی،صابئین میں مکرم معظم مانے گئے تھے۔چوتھا مظہر الاسلام اور دوسرا شہر اور زمین پر طابہ طیبہ مدینۃ الرسول ہے ﷺ جس کے لئے وہی وعدہ اس فتنہ سے امن کا ہے اور وہ بھی اب تک محفوظ ہے اور ایسا ہی محفوظ رہے گا۔انشاء اللہ تعالیٰ۔اور اس دنیا میں پانچواں مظہر الاسلام کا قرآن کریم ہے۔اس کی سلام ہونے کی دلیل یہ ہے کہ اللہ السلام خود اس کا محافظ ہے جیسے فرماتا ہے۔(الحجر:۱۰) اس کی حفاظت کا مفصل تذکرہ سوال نمبر ۱۱۲/۱۱۵ کے جواب میں دیکھو۔ص ۳۱۱ و ۳۲۱ اور چھٹا مظہر الاسلام اور اس کا مبلغ حضرت محمد رسول اللہ خاتم الرسل والنبیین رسول رب العالمین ہے۔غور کرو! زمانہ نبوی میںعرب میں کسی کا مارڈالنا کوئی مشکل امر نہ تھا۔بڑے بارعب شخص ہمارے جد امجد عمر رضی اللہ عنہ کو مارنے والے نے مارااور اسلام میں وہ ننگ اسلام بھی ہیں جن کے اعتقادمیں وہ قاتل بابا شجاع کہاجاتاہے۔بڑے بہادر اسد اللہ علی مرتضیٰ علیہ السلام کو مارنے والے شقی نے مارا جس نامراد کا ابن ملجم نام مشہور ہے۔جناب عثمان رضی اللہ عنہ جیسے مدبر، قوم کے عظیم الشان خلیفہ کو مارنے والوں نے مارا گو کیفرکردار کو پہنچے۔اس ملک کے علاوہ ہم تو سنتے ہیں کہ دیانند جی کوبھی کوئی ایسا ہی معاملہ پیش آیا تھا اور آریہ مسافر کو تو اس امن کی سلطنت میںمارنے والے نے مارا اور اس کے لائق اتباع اور پولیس کو اتنا پوچھنے کی یاوری نہ ملی کہ کوئی آریہ مسافر سے پوچھتا کہ آپ کو کس نے مارا ؟ غرض بات صاف ہے مگر نبی کریم ﷺ کے لئے دعویٰ موجود ہے