نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 182 of 358

نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 182

قربانیوں سے روکا ہے۔اب ہم تیسرے حصہ کو جو اس مضمون کے متعلق ہے بیان کرتے ہیں اور دکھاتے ہیں کہ اسلام نے کن قربانیوں کو جائز رکھا ہے ؟ سو اول انسانی قربانی کا ذکر کرتے ہیں مگر قبل اس کے کہ اس کا بیان کریں قربان کے لفظ کی جس سے قربانی کا لفظ نکلا ہے تشریح کرتے ہیں۔سنو !اس لفظ قربان کے لغت عرب میں کیا معنی ہیں۔قرب الشی قرباناً۔خوب ہی نزدیک ہوئی یہ چیز۔القربان بالضم ماقرب الی اللہ۔قربان پیش کے ساتھ جو اللہ کی طرف نزدیک کرے۔وما تقربت بہ۔اور قربان وہ ہے جس کے ذریعہ تو اللہ کے نزدیک ہو۔والقربان جلیس الملک وخاصۃ۔قربان بادشاہ کا مجلسی اور اس کا ممتاز۔ومنہ الصلوٰۃ قربان کل تقی۔اسی محاورہ پرہے کہ نماز ہر ایک متقی کے لئے قربان ہے۔اور حدیث میں آیا ہے۔ما یزال عبدی یتقرب الی بالنوافل حتی احببتہ۔فاذا احببتہ کنت سمعہ الذی یسمع بہ و بصرہ الذی یبصر بہ و یدہ الذی یبطش بھا و رجلہ التی یمشی بھا۔(بخاری) میرابندہ نفلوںکے ذریعہ میرے قریب ہوتا ہے یہاں تک کہ میں اس سے پیار کرتا ہوں اس کے کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے اور آنکھ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے اور ہاتھ جس سے وہ پکڑتاہے اور پاؤں جس سے چلتاہے۔پس قربان کے معنی ہوئے اللہ تعالیٰ کی رضا مندیوں میں اپنے آپ کو محو کر دینا اور اس ذریعہ سے اپنے آپ کو اس کے نزدیک کرنا اور اس کے خاصوں میں ہوجانا۔جب کوئی انسان ایسا ہوتا ہے کہ نہ اس کو کسی کے ساتھ مخلوق میں ذاتی رنج وغضب ہوتا ہے اور نہ کسی کے ساتھ مخلوق میں سے ذاتی محبت اور تعلق ہوتا ہے اس کی محبت خلق سے ہوتی ہے مگر للہ وباللہ وفی اللہ ہوتی ہے اور اس کا بغض بھی ہوتا ہے مگر للّٰہ وباللہ وفی اللہ ہوتا ہے وہ فانی باللہ اور باقی باللہ ہو جاتا ہے۔