نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 48 of 358

نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 48

پھر ماں۔باپ۔اچار۱؎ کی سیوا۔خدمت۔پرم تپ (عبادت اعظم) ہے کا رپیتہ اگنی پتہ و کشنی اگنی ماتا اور آہوتی اگنی۔گروہیں۔پہلی عبادت سے بھو لوگ۔دوسری سے انترکش لوگ۔تیسری سے برہم لوگ ملتا ہے۔منو۲شلوک ۲۲۹اور۲۳۱،۲۳۳آپ تو چومنے پر معترض ہیں یہاں عبادت غیر اللہ موجود ہے۔س۳۔منہ قبلہ کو کرتے ہیں۔اس کا مفصل جواب دیکھو۔سوال نمبر۱۸اور صفحہ نمبر۴۹ اور الزاماً جواب کے لئے دیکھو منو ۲۔اشلوک ۷۵اور۷۵،۷۶۔پورب منہ کش کے آسن پر بیٹھ کر پوتر منترسے پوترہو کر تین بار پرانا یام کرے۔تب انکارکھنے لائق ہوتا ہے۔۷۶۔اکار۔اکار مکارتین۔اکہشر (مقطعات)بھوہ۔بھوہ۔سوہ۔پڑھے یہ عطر وید ہے جو برہما نے نکالا اور حقیقت یہ ہے کہ توجہ مکہ معظمہ کی طرف اسلامی نماز میں پانچ وقت یک جہتی کی تعلیم ہے۔بے جہت نفس روح وجان۔بے جہت کے صفات الٰہیہ کا دھیان کرے اور اس کے حضور دعا وتعظیم کرے اور باجہت جسم یکسو ہوکر توجہ کرے۔شاید آریہ لوگ ہَوَن کے وقت آگ کی طرف پیٹھ دے کر وید منتر پڑھتے ہوں۔س۴۔نبی کریم ؐپر الصلوٰۃ والسلام کہتے ہیں۔جواب:صلوٰہ کے معنی ہیں خاص رحمت کی دعا اور ہر ایک مذہب الہامی میں مسئلہ دعاکرنے کا ثابت ہے۔تارک اسلام نے بھی بار بار لیکچر میں ’’دعا‘‘اور’’درددل‘‘سے سامعین کو اپنی طرف متوجہ ہونے کے لئے دعا کا لفظ استعمال کیاہے۔بلکہ عام دنیا پرست بھی جس کسی کواپنا نفع رساں سمجھتے ہیںان کے حضور اپنی امید وبیم کو بطور عرض پیش کرتے ہیں۔پس حقیقتاً وہ بھی ان کے آگے دعا ۱؎ استاد،رہبر،گرو ۲۔مشرق ۳۔گھانس ۴۔گدیلے۱۲ ف۔مکار جس کو سندھیا ودھی میں ’’ ما ‘‘ اور ستیارتھ میں ’’ م ‘‘ کہا ہے ۱۲ منہ