نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 28 of 358

نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 28

کرتا ہے۔اس واسطے اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں اپنی ربوبیت رحمانیت رحیمیت اور مالکیت اور کاملہ صفات کابیان بڑے زور سے فرماتا ہے توکہ آدمی کا ایمان و یقین احکام الٰہیہ پر بڑھے۔پھر اس ذریعہ اس مقام پر پہنچتا ہے جس کا نام  ہے۔(التوبۃ :۷۲) اور اس مقام کی طرف ارشاد ہے: (الانعام :۱۶۳،۱۶۴) کہہ میری نماز اور قربانی اور میرا جینا اور میرا مرنا اللہ کے لئے ہے جو جہانوں کا پروردگار ہے اس کا کوئی شریک نہیں اور اس بات کا مجھے حکم دیا گیا ہے اور میں پہلا مسلم ہوں۔اور ارشاد ہے: (البقرۃ:۱۱۳)ہاں جس نے فرمانبردار کیا اپنی ساری طاقتوں کو اللہ کا اوروہ محسن بھی ہو پس اس کے لئے اجر ہے اس کے پروردگار کے پاس اور ایسے لوگوں پر نہ خوف ہو گا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔فقرہ سوم:ہم نے اسلام کی تعلیم کو بطور نمونہ پیش کیا ہے اور اس میں دکھایا ہے کہ عقل صحیح اور نقل صریح میں قطعاً تعارض نہیں ہوا کرتا۔شیخ الاسلام شیخ ابن تیمیہ حرانی نے اس دعویٰ پرتین مجلد ضخیم کی کتاب لکھی ہے جس کا اکثر حصہ راقم کے پاس ہے۔والحمد للہ رب العالمین۔اسلام کے نہ ماننے والے لوگ جب عذاب میں مبتلا ہوئے تو انہوں نے کہا: (۱) ۔(الملک :۱۱،۱۲) قرآن میں کامل توحید۔تعظیم الٰہی۔ابطال شرک۔دعائیںاور ابطال باطل ہے۔کیا یہ خلاف عقل ہے؟البتہ اللہ تعالیٰ کی خاموشی کا بعد ملہمان وید اور نیوگ کا اس میں