نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 283 of 358

نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 283

سوال نمبر ۹۲۔خداشرک کے سواباقی تمام گنا ہ معاف کردیتاہے۔افسوس ہے کہ کرم تھیوری کو چھوڑ کر توبہ۔عفو اور شفاعت کے مسئلے گھڑ ے گئے۔الجواب۔بی اے گریجویٹ بننے کا دعویٰ، ہیڈ ماسڑی کا فخر، برہمچریہ بننے کا شوق، آریہ سماج سریشٹ قوم میں بیٹھنے کاشوق اور تکرار اور بکواس اور بیہودہ باربار اعتراض کرنے اور دل دکھانے کی دھت کیا توبہ۔عفواور شفاعت پر سوال نمبر ۶،۷،۲۱میں تم اعتراض نہیںکرچکے۔کر م کے تھیوری کو تو خو د تھیوری کہتاہے سائنس نہیں کہتاکیاتھیوری اور واقعات ایک چیز ہیں۔سن !شرک ایسی بری بلاہے کہ ستیارتھ پرکاش کے بنانے والے نے بھی اسے بد کاریوں کا جامع قرار دیاہے دیکھ سملاس نمبراا فقرہ نمبر ۵۰ صفحہ۴۱۹۔(۱) بت پرستی ادہرم ہے۔کفر بے ایمانی ہے۔(۲) کروڑوں روپیہ مندروں پر خرچ کرکے (لوگ )مفلس ہوتے ہیں اور اس میں کاہلی ہوتی ہے۔(۳) عورتوں مردوں کا مندروں میںمیل ہونے سے زناکاری۔لڑائی۔بکھیڑا اور بیماریاں وغیرہ پیدا ہوئی ہیں۔(۴) اسی کو دھر م ارتھ کام اور مکتی کاذریعہ مان کر سست ہوکر انسانی جامہ رائیگاں کھوتے ہیں۔(۵) مختلف قسم کی متضاد اشکال،نام اور حالات والے بتوں کے پوجاریوں کا ایک عقیدہ نہیں رہتااور متضاد عقیدے رکھ کر اورباہمی نفاق بڑھا کر ملک کی بربادی کرتے ہیں۔(۶)اسی کے بھروسے دشمن کی شکست اوراپنی فتح مان بیٹھے رہتے ہیں۔ان کے ہار ہوکر سلطنت، آزادی اور دولت کا آرام ان کے دشمنوں کے قبضہ میں ہو جاتا ہے۔اور آپ محتاج بغیر بھٹیارے کے ٹٹو اور کمہار کے گدھے کی مانند دشمنوں کے بس ہوکر کئی طرح کی تکلیف پاتے ہیں۔(۷) جب کوئی کسی کو کہے کہ ہم تیری نشست گاہ یا نام پر پتھر دھریں تو جیسے وہ ا س پر خفا ہوکر مارتا یا گالی دیتاہے ویسے ہی جو پرمیشور کی عبادت کی جگہ دل اور نا م پر پتھر وغیرہ بت دھرتے