نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 250
اور ملک کی دیکھ بھال کی۔اس کے مغرب کی طرف اس وقت دلدلیں کنارہ ہائے بحیرہ خضر تھیں۔اس وقت جہاز رانی کا پورا سامان کہاں تھا اور کناروں پر ایسے عمدہ گھاٹ کہاں تھے جیسے اب روز بروز ہوتے چلے جاتے ہیں۔ہاں تم لوگوں کا احمقانہ خیال ہے کہ پرانے زمانہ میںہی سٹیمر۔تاروریل وغیرہ فنون تھے اور ان کے موجد آریہ ورتی تھے جس لفظ کا ترجمہ تم نے جاکر دیکھا۔کیا ہے وہ لفظ وجدھا تغرب ہے اس کے معنے ہیں اس نے سورج کو ایسا معلوم کیا اور اس کی آنکھ سے ایسا معلوم ہوا کہ وہ دلدل میں ڈوبتا ہے۔اب سوچو یہ لفظ ایسا صاف ہے کہ اس میں ذرا اعتراض کا موقع نہیں۔اس نظارہ کو ہر شخص ہر روز اپنی آنکھوں سے دیکھتا ہے کہ سورج اسے اگر جنگل میں ہوتو درختوں میں ڈوبتا نظر آتاہے اور اگر سمندر میں ہو تو پانی سے نکلتا اور آخر پانی میں ہی ڈوبتا نظر آتا ہے ایسے بدیہی نظاروں پر اعتراض کرنا سوائے اندھے کے اور کس کاکام ہے !! ایک قابل قدر لطیفہ اور باریک نکتہ القرن من القوم سیدھم۔قرن سردار کے معنی میں بھی آتاہے اور قرن سوبرس کوبھی کہتے ہیں۔یہ امر صاحب قاموس اللغہ نے بھی لکھاہے۔یہ معنی بہ نسبت اور معنوں کے جو زمانہ کے متعلق اہل لغت نے کئے ہیں بہت صحیح ہیں کیونکہ حدیث میں آیا ہے کہ نبی کریم نے ایک غلام (جوان یا لڑکے) کو کہا تھا عش قرنا تو ایک قرن زندہ رہ۔تو وہ ایک سوسال زندہ رہااور علی رضی اللہ عنہ کو بھی ذوالقرنین کہتے ہیں کیونکہ نبی کریم نے فرمایا ہے ان لک بیتا فی الجنۃ وانک لذو قرنیھا کہ تو دونوں طرف جنت کا بڑا بادشاہ ہو گا۔ظاہر میں تو یہ بات اس طرح صادق ہو گئی کہ آپ اپنے عہد مبارک میں عراقین کے مالک تھے اور دجلہ و فرات و جیحون و سیحون آپ کے تحت حکومت تھے اور اب بھی مدعیان اتباع مولیٰ مرتضیٰ علیہ السلام ہی اس ملک کے اکثر حصہ کے مالک وحاکم ہیں اور صحیح مسلم میں اس ملک کو جنت عدن کہا ہے پس ان روایات سے جن کو لغت والوں نے بیان کیا ہے ذوالقرنین کے معنی وسیع ہوگئے یہاں تک کہ اس امت میں بھی ایک ذوالقرنین گذرا۔