نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 240
مع خوراک، گپ ہے۔الجواب۔نوح کی کشتی کتنے فیٹ تھی چند فیٹ تھی۔یہ تم نے قرآن پر افتراء کیا ہے۔چند فیٹ لمبی یہ بھی جھوٹ اور افتراء ہے چند فیٹ چوڑی یہ بھی افتراء ہے۔روئے زمین یہ بھی افتراء ہے۔تمام چرند۔پرند۔درند یہ بھی افتراء ہے۔مع خوراک یہ بھی افتراء ہے۔اتنے افتراء اور راست بازوں سے جنگ کرکے کامیابی کی امید! زیر اعتراض یہ آیت ہے۔(ھود :۴۱)اول اس میں من کا لفظ ہے جس کا ترجمہ ’’سے ‘‘ اور ’’بعض‘‘ ہے کل کا لفظ ہر ایک موقعہ کے لئے الگ الگ معنی دیتا ہے قرآن کریم کے محاورات دیکھو۔ایک عورت یمن کے بادشاہ کی نسبت فرماتی ہے۔(النمل :۲۴) مجھے کل شئی دی گئی اورذوالقرنین کی نسبت ہے۔(الکھف :۸۵) ہم نے اسے کل قسم کے اسباب دئیے۔اب کیا اس کل سے یہ مطلب ہے کہ دنیا کے جزوی وکلی اسباب سے ایک ذرہ بھر باقی نہیں رہا تھا جو ان کے قبضہ میں نہ آیا ہو۔یہ توقانون قدرت اور عادت اللہ اور عادت الناس کے خلاف ہے ہر ایک بولی میں یہ لفظ اپنے اپنے رنگ میں آتاہے جیسے ہماری زبان میں ’’سب‘‘کا لفظ ہے اور متکلم ذہن میں ایک بات رکھ کر بولتا ہے اور مخاطب متکلم کے معہود فی الذہن منشاء کے موافق عین موقعہ پر اسے اتارتا ہے۔اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ ہر قسم کی ضروری اشیاء میں سے جو تجھے مطلوب اور تیرے کام کی ہیں کشتی میں اٹھا لے اس میں کہاں لکھا ہے کہ تمام چرند ، پرند اور درخت اس میں رکھ لئے گئے۔سوال نمبر ۷۴۔عورت مرد کا چہرہ بھی نہ دیکھے توبچہ جن سکتی ہے جیسے مسیح علیہ السلام کی پیدائش میں دکھایا گیا۔الجواب۔(۱) جو اسلام قرآ ن کے صحیفہ فطرت نے ہم کو سکھایا ہے اس میں تو کہیں نہیں لکھا کہ تم اسلام لاؤ کہ مسیح بے باپ تھے۔(۲)ہم کو نبی کریم نے نہیں فرمایا کہ اسلام میں یہ بھی ہے کہ تم مان لو