نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 6 of 358

نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 6

 (المائدۃ : ۶۸) اور دعویٰ بھی ایسے وقت میں کہ ابتدائے اسلام تھا اور آپ کے لئے آپ کے دروازہ دربان کوئی نہ تھا بلکہ اپنے اور بیگانے سب دشمن تھے۔آریہ اور عیسائی کہتے ہیں کہ بجبر لوگوںکو مسلمان بنایا جاتا تھا۔الّا ان مجبوروں کو جو بقول ان کے دائیں اور بائیں تھے یاوری نہ ملی کہ اس دعویٰ کو باطل کرتے مگر آخر یہ دعویٰ  (المائدۃ : ۶۸) صحیح اور یہ پیشگوئی سچی نکلی بلکہ (الحاقۃ : ۴۵) کا مضمون موید ساتھ تھااور مکذب بھی بایں کثرت تھے کہ مشرکین عرب اور یہود و نصارٰی پر بس نہ تھی۔شام و روم ،مصروایران۔اس لئے مجھے کبھی ذرہ خیال نہیں آیا کہ اسلام دنیا سے نیست و نابود ہو بلکہ(التوبۃ : ۳۳) کا وقت نظر آرہا ہے۔علاوہ بریں تجارب گواہ ہیں۔دیکھو ہلاکو خان اور اس کے ناکام مشیر نصیرالشرک اور رسالہ مؤید الکفر نے کیا نہ کیامگر آخر ہلاکو کی اولاد خادمِ اسلام ہوئی اور وہ دونوں وزراء ناکام ونامراد دنیا سے چل دئیے۔پس یہ بحث اور مضمون جو میں نے لکھا ہے بعض کی بھلائی کے لئے لکھا ہے اور اپنے فہم و فراست کے مطابق سمجھانا مقصود ہے کہ کوئی روح سلامتی پر پہنچ جاوے۔ (النجم:۴۰تا۴۲) چونکہ اسلام انقیاد وفرمانبرداری،صلح و آشتی کانام ہے اس لئے اسلام کی ابتدائی نشوونما میں جب صنادید عرب علی العموم اور اراکین مکہ نے بالخصوص مسلمانوں کو شدید ایذائیں دینا شروع کیں تو حتی الامکان صبر وحلم وبردباری سے کام لیا گیا۔جب ایذا حد سے بڑھی اور ناقابل برداشت ہو گئی تو مسلمانوں نے ملک حبش کو ہجرت کی۔عمائد مکہ اس پر بھی باز نہ آئے اور مسلمانوں کا تعاقب ملک حبش تک کیا۔اہل مدینہ کے اصرار پر مدینہ کو مسلمانوں نے ہجرت کی اور صاحب اسلام حضرت نبی کریم