نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 151 of 358

نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 151

ایک شخص مجلوق اور جریان کا مبتلا ہمارے سامنے آتا ہے اس کاآنکھ سے ہم پتہ لگا سکتے ہیں اور اسی طرح ہزاروں بیماروں میںیہ امر مشہود ہے۔پھر کیا علیم وخبیر ذات پاک کے سامنے ہی سمع وبصر گواہی نہیں دے سکتے۔یہ کیا عجیب بات ہے اس میں ڈھکونسلا کیا ہوا ! بہشت کے متعلق جو کچھ تم نے کہاہے اس کا جواب آگے آتا ہے دیکھو نمبر۳۶۔سوال نمبر۳۶۔بہشت میں رہو جہاں غم کا نشان نہیں۔انسان ایک حالت میں رہنا پسند نہیں کرتا۔مدامی خوشی وبال جان ہو جائے گی۔انسان نعمتوں سے تھک جاتاہے۔الجواب۔اللہ تعالیٰ تمہیں فہم دے۔اب تمہارے تبدیل مذہب کا باعث معلوم ہوا۔جب تم ایک حالت پر نہیں رہ سکتے تو تمہارا آریہ سماج دہرم پر استقلال بھی معلوم ہو گیا۔اگر مدامی خوشی وبال جا ن ہے تو جو سچد۱؎ انندہے پس وہ ہمیشہ کی خوشی چھوڑ کر ضرور کسی نہ کسی دکھ دائک جسم میں جاتاہے اس لئے ثابت ہوا کہ وہ ضرور جنم دہاری ہے اور پرانے آریہ ورت والے اوتاروں کے ماننے میں و جہ رکھتے ہیں۔بنی اسرائیل پر اگر قیاس ہے تو معلوم ہوا کہ چالیس برس کی خوشی پربھی انسان کو رہنا محال ہے کہ کوئی پسند کرے تو اس حساب سے کئی ارب۲؎ کی مکتی ایک عذاب ہے جو روح پرکسی ظالم کا کام ہو گا۔تعجب تعجب!! اصل بات سنو ! بنی اسرائیل مدت تک مصر میں فرعون کے تحت ذلت میں رہے تھے۔اس لئے ان کے واسطے موسیٰ علیہ السلام کا منشا تھا کہ یہ قوم کسی طرح فاتح بنے۔قوم نے رسول اللہ کی نافرمانی کی تو جنگل میں سزایابوں کی طرح چالیس برس رہنا پڑا۔اس پر وہ تنگ ہو گئے تو زمیندار بننا چاہا نہ خوشی کے باعث۔اس پر حضرت حق سبحانہ نے فرمایا۔اھبطوا مصراً۔۱؎ حقیقی ہستی،علیم اور ہمہ سرور۔یہ خدا کے وہ صفات ہیں جن کو آریہ مانتے ہیں ۱۲ منہ ۲؎ اربوں برس خوشی و آزادی سے رہنا آریہ کی نجات ہے۱۲