نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 141
کمرہ کی ہوا رک جاوے۔یہ مثل ٹھیک ان اعمال پر صادق آتی ہے جن کا انسان جواب دہ ہے۔اسی طرح آتشک اور خاص سوزاک ان لوگوں کو ہوگا جو بدی کے مرتکب ہوئے۔پس جب کھڑکیاں کھول دی گئیں اور پورا اور صحیح علاج کر لیا گیا تو کمرہ پھر ہوا دار روشن اور مریض اچھا ہوجائے گا۔مہریں اسلام کے رو سے ٹوٹ بھی جاتی ہیں۔اسی واسطے قرآن کریم میں آیا ہے۔(البقرۃ :۱۸۶) مہریں ہی ٹوٹیں تو نبی کریم سے لے کر کروڑ در کروڑ آج تک مسلمان ہوئے۔ہاں ! تمہارے مذہب کے رو سے مہر کا ٹوٹناضرور محال ہے کیونکہ اگر مہروں کا ٹوٹنا محال نہیں تو آپ کم سے کم اپنی گاؤ ماتا کو اس کے بہرشٹ جنم سے چھوڑاتے۔ہمیں اسے پنڈتانی بنا کر دکھاؤ تو سہی ! اس بیچاری کا جنم صرف سزا ہی بھوگ رہا ہے۔کاش اس کی مہر ٹوٹتی تو نہ انگریز اسے مارتے اورنہ ہم پر اتنے مقدمات قائم ہوتے۔سوال نمبر۲۱۔’’خدا کے ہاں سفارش منظورنہیں پھر کہا بعض کی منظور ہے۔سپارش اور گناہ کا کیا تعلق ہے۔‘‘ ’’قرآنی خدا مطلق العنان ہے۔قیدی لائے جاتے ہیں وزیر سپارش کررہا ہے اور اورنگ زیبی دربار لگا ہے۔‘‘ الجواب۔میں اپنے فن طبابت میں دیکھتا ہوں کہ میری کوشش کی سپارش،میری دی ہوئی دواؤں کی سپارش کہیں منظور ہے اور کہیں نامنظور۔اسی طرح سائنس دانوں کی سپارشیں کہیں منظور ہیں کہیں نامنظور۔بادشاہوں کے وزراء امراء سپہ سالاروں کی سپارشیں کہیں منظور ہیں کہیں نامنظور۔دعائیں کہیں کامیاب کر کے شکر کے انعامات کا موجب ہوتی ہیں اور کہیں ناکامی سے صبر کے انعامات دلاتی ہیں۔پس اس قاعدہ کے مطابق بعضوں کے حق میں لکھاہے کہ ان کے لئے سپارش نامنظور ہے اور بعض کے لئے سپارش منظور ہے۔اسی طرح بعض کی سپارش منظور اور بعض کی نامنظور۔سپارش