نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 91
(المائدۃ:۱۵) کیا معنے ؟جب لوگوں نے ترک کر دیا اس پاک راہ کو جس کی ان کو تعلیم دی گئی تھی تو پھر ہم نے ان میں باہمی عداوت اور بغض کو مسلط کر دیا۔بھلا شیر اور اس کے شکار،بلی چوہے کا خالق کوئی صلح کرنے والا ہے یا لڑاکا۔جو کوئی قوم باہمی محبت ونیکی وہمدردی و اخلاص اور دوستانہ برتاؤ کی تعلیم کو ترک کر دے اور نہ مانے توان میں باہمی عداوت وبغض لابدی ہے یا نہیں۔آریہ سناتن دھرم کے مدعیوں کے درمیان آریہ بدھوں ،آریہ جینیوں۔آریہ اور مسیحی لوگوں۔آریہ اور مسلمانوں کے درمیان عداوت وبغض آیا ترک احکام الٰہیہ سے ہے یا کسی اور باعث سے ہے اس پر دیکھو نمبر ۱۲سوال کا جواب وغیرہ۔سوال نمبر۶۔توبہ اور بے انصافی ایک چیز ہے۔الجواب۔مفردات راغب میں ہے۔التوب ترک الذنب علی اجمل الوجوہ وھو ابلغ وجوہ الاعتذار یعنی توبہ کے معنے ہیں بہت ہی عمدہ و جہ سے گناہ کو چھوڑ دینا اور اس سے بڑھ کر عذر خواہی کی اور کوئی عمدہ راہ نہیں ہوسکتی۔ایک بدکار۔نافرمان جب اپنی غلط کاریوں سے الگ ہو جاوے تو انصاف کا مقتضا ہے کہ اب اس کو بری ہی کیا جاوے مگر محدود العقل۔محدود العلم آدمی دلوں کی اندرونی حالات سے ناواقف اگر کسی کے عذر کو نہ مانے تو یہ اس کی نادانی ہے مگر علیم بذات الصدور جو تہہ در تہہ کو جانتا ہے وہ جب جان لے کہ اب یہ شخص سچا بدی کا تارک ہو چکا ہے تو پھر توبہ قبول نہ کرنا ناانصافی ہے۔کیا توبہ اور ترک الذنب ہی نجات اور مکتی کا ذریعہ نہیں؟ اس میں ہم نے الزامی جواب اس لئے نہیں دیا کہ اس پاک تعلیم کے سمجھنے کے لئے معمولی عقلیں کافی نہیںورنہ ستیارتھ میں اس کا مذکور ہوتا۔ہم خدا کا شکر کرتے ہیں کہ اسلام کو ہی یہ فخر حاصل ہے کہ اس نے انسان کے دل کی سچی آرزو یعنی مسئلہ توبہ کی تبلیغ کی ہے۔ہر ایک فطرت خطا اور نسیان