نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 82
معتبر لغت سے پیش کرتے ہیں۔اب خدا ترس ناظرین پر ہم اس امر کا فیصلہ موقوف رکھتے ہیں کہ قرآن کریم کے عام اصول اور حمدالٰہی کو مدنظر رکھ کر اور لغت عرب سے مشورہ لے کر فرمائیں کہ کہاں ہیں وہ گندے فقرے اور ناپاک معنے جو تارک اسلام نے لکھے ہیں؟ اور سنو !مکار کا لفظ اور باقی آپ کے الفاظ اگرچہ قرآن مجید میں قطعاً نہیں مگر وید میں اوم ۱؎ کے آخری لفظ کو آپ کے یہاں مکار کہتے ہیں۔اور وہ بھی آدھا مکار۔ہوش کرو ترک کرنا تو اس کتاب کا جس میں بسم اللہ الرحمن الرحیم ہو اور لینا اس کتاب کا جس کی ابتدا میں تیسرے حرف مکار کے بعد اگنم ایڑ ہے پروہتم ہے۔پھرتارک اپنی کھلی چھٹی میں لکھتا ہے کہ ’’ ہم لغت اور مفسرین کی تاویلیں نہیں مان سکتے‘‘بہت اچھا تو آدھا مکار۔اور اگ۔نی۔کیسا صاف لفظ ہے جس کے معنے پنجابی سے اردو ممعتبر لغت سے پیش کرتے ہیں۔اب خدا ترس ناظرین پر ہم اس امر کا فیصلہ موقوف رکھتے ہیں کہ قرآن کریم کے عام اصول اور حمدالٰہی کو مدنظر رکھ کر اور لغت عرب سے مشورہ لے کر فرمائیں کہ کہاں ہیں وہ گندے فقرے اور ناپاک معنے جو تارک اسلام نے لکھے ہیں؟ اور سنو !مکار کا لفظ اور باقی آپ کے الفاظ اگرچہ قرآن مجید میں قطعاً نہیں مگر وید میں اوم ۱؎ کے آخری لفظ کو آپ کے یہاں مکار کہتے ہیں۔اور وہ بھی آدھا مکار۔ہوش کرو ترک کرنا تو اس کتاب کا جس میں بسم اللہ الرحمن الرحیم ہو اور لینا اس کتاب کا جس کی ابتدا میں تیسرے حرف مکار کے بعد اگنم ایڑ ہے پروہتم ہے۔پھرتارک اپنی کھلی چھٹی میں لکھتا ہے کہ ’’ ہم لغت اور مفسرین کی تاویلیں نہیں مان سکتے‘‘بہت اچھا تو آدھا مکار۔اور اگ۔نی۔کیسا صاف لفظ ہے جس کے معنے پنجابی سے اردو میں ’’آدھے مکار‘‘ اور ’’اواگ‘‘کے ہیں۔پنجابی زنانہ بولی میں یوں ہوا۔’’اگ۔نی۔اڑئے‘‘نیز اگنی تیسرے خاوند کو کہتے ہیں تو بتاؤ کیا یہ معنے درست ہیں۔دیکھو ستیارتھ صفحہ ۱۵۳ آپ کے اس قاعدہ کے موافق آپ کا حق نہیں کہ لغت وید سے۔برہمنوں اور مہابھاش تفسیر سے ہمیں جواب دیں۔پھر گائتری کے ابتدا جو بھور۔بھوہ،سُوہ ہے اس کی تشریح لغت اور تفسیروں سے تو کرنی نہیں چاہیئے اس لئے کہ یہی آپ نے قاعدہ باندھا ہے۔اب بولو کہ پنجابی میںیہ کیا الفاظ ہیں پھر اس کا آخری نام بظاہر سُوَہ ہے جس کو اردو والے راکھ کہتے ہیں۔کیا پرمیشر سُوَہ ہے۔پس سوچو!تمہارا طریق بحث کے ساتھ غلط ہے اور حق طلبی سے کس قدر دور۔ستیارتھ پرکاش میں پنڈت دیانند نے جن جن رنگوں سے اس قسم کے الفاظ کو توجیہات کی کرسی پر بٹھایا ہے وہ کارروائی اس کے لئے اور اس کے جانشینوں کے لئے عبرت کا مقام ہے کہ کس طرحیں ’’آدھے مکار‘‘ اور ’’اواگ‘‘کے ہیں۔پنجابی زنانہ بولی میں یوں ہوا۔’’اگ۔نی۔اڑئے‘‘نیز اگنی تیسرے خاوند کو کہتے ہیں تو بتاؤ کیا یہ معنے درست ہیں۔دیکھو ستیارتھ صفحہ ۱۵۳ آپ کے اس قاعدہ کے موافق آپ کا حق نہیں کہ لغت وید سے۔برہمنوں اور مہابھاش تفسیر سے ہمیں جواب دیں۔پھر گائتری کے ابتدا جو بھور۔بھوہ،سُوہ ہے اس کی تشریح لغت اور تفسیروں سے تو کرنی نہیں چاہیئے اس لئے کہ یہی آپ نے قاعدہ باندھا ہے۔اب بولو کہ پنجابی میںیہ کیا الفاظ ہیں پھر اس کا آخری نام بظاہر سُوَہ ہے جس کو اردو والے راکھ کہتے ہیں۔کیا پرمیشر سُوَہ ہے۔پس سوچو!تمہارا طریق بحث کے ساتھ غلط ہے اور حق طلبی سے کس قدر دور۔ستیارتھ پرکاش میں پنڈت دیانند نے جن جن رنگوں سے اس قسم کے الفاظ کو توجیہات کی کرسی پر بٹھایا ہے وہ کارروائی اس کے لئے اور اس کے جانشینوں کے لئے عبرت کا مقام ہے کہ کس طرح