نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 27
ہو سکتی ہے۔خدا تعالیٰ کی زندہ کتاب قرآن کریم نے اس لئے اس اصل پر بہت زور دیا ہے جیسے فرمایا: (البقرۃ:۱۶۴،۱۶۵) تمہارا معبود و مقصود و مطلوب ایک ہی ہے کوئی معبود نہیں بجز اس کے وہ رحمان رحیم ہے۔آسمانوں اور زمین کی بناوٹ میں اور رات اور دن کے اختلاف یا آگے پیچھے آنے میں اور جہازوں میں جو سمندر وں میں چلتے ہیں لوگوں کی نافع چیزوں کو اپنے اندر لے کر اور بارش میں جو اللہ نے اوپر سے اتاری۔پھر زندہ کیا اس سے زمین کو خشک ہو جانے کے بعد اور پھیلائے اس میں ہر قسم کے رینگنے والے اور ہواؤں کے ادلنے بدلنے میں اور بادل میں جو گھیرے ہوئے ہوتے ہیں آسمان اور زمین کے درمیان۔نشان ہیں عقل مندوں کے لئے۔چونکہ صرف فلسفیانہ ہستی باری کے ماننے سے انسان کو جناب الٰہی سے محبت اور اس پر ایمان بلکہ اعلیٰ محبت اور اعلیٰ ایمان اور مقامات قرب و رضوان نہیںمل سکتے اس لئے قرآن کریم ہستی باری تعالیٰ کے دلائل کے ساتھ ساتھ اپنے احسانات کا بسیط بیان فرماتا ہے۔ازبس کہ فطرت انسانی میں یہ مادہ خمیر کیا گیاہے کہ سلیم اور حق شناس قلوب محسن کے ساتھ محبت کرنے اور اطاعت کرنے میںکمال دلیری دکھاتے ہیں۔اس واسطے احسان الٰہی کابیان ان دلائل کے ساتھ ساتھ ہوتاہے اور یہ بھی فطرت انسانیہ کا تقاضا ہے کہ ہر ایک شخص اپنے سے زیادہ قوی، زیادہ علم والے، زیادہ تر دانا کے کہنے کی قدر کرتا ہے اور بڑی قدر کرتا ہے اور ا یسے قادر،حاکم،حکیم کی ماتحتی کو اپنے لئے فخر وعزت یقین