نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 336 of 358

نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 336

کیا تم نے کسی سچے مذہب میں نہیں سنا کہ خدا تعالیٰ کے یہاں جزا و سزا ضروری ہے۔اگر مذہب سے ناواقف ہو تو دیکھ لو۔آتشک والوں سے پوچھو کیا ان کو بے و جہ عذاب ہوتا ہے ؟خاص سوزاک والے بدوں خاص بدی کے مبتلا ہیں؟مضامین کو صاف نہ لکھنے والے دماغ کے وہ کمزور جو اچھے بھلے چنگے تھے بدیوں اور بدکاریوں سے تباہ حال نہیں؟ ۴۔نماز پر اعتراض کیا ہے۔مگر نماز میں کمربستہ حاضر ہونا خدا ماننے والے کی فطرت کا تقاضا ہے اور فرمانبرداری کے لئے جھکنا ایک تواضع ہے اور سجدہ میں گرنا کمال عبودیت کا اظہارہے۔۵۔جنّ کے وجود پر اعتراض کا جواب۔جنّ مخفی در مخفی ارواح خبیثہ کانام ہے اس زمانہ میں جب سے ارواح کا انکار ہونے لگا ہے تو پہلے اللہ تعالیٰ نے مائکرس کوپ کی ایجاد کی راہ نکالی ہے۔پھر آخر اب اشیاء کی تحقیق پر توجہ دی ہے اور ہزاروں باریک اجسام ارواح خبیثہ کے نظر آنے لگے ہیں اور اس علم کانام بکڑیالوجی ہے جس میں ان ارواح کے اجسام لطیفہ دکھائے جاتے ہیں۔۶۔اسلام تمہاری ان بے جا کوششوں کے ذریعہ دنیا سے اٹھ جاوے۔ایں خیالست و محالست وجنون اسلام پر خطرناک حملہ ترکوں کاتھا مگر تم نے نہیں دیکھا کہ آخر ترک ہی مسلمان اور خادم اسلام بن گئے۔عیسائیوں سے زیادہ تم طاقت ور نہیں ہو سکتے وہ بھی اسلام کے معدوم کرنے میں ناکام ہیں۔جن تدابیر پر تم چل رہے ہو اور تمہارے چھوٹے بڑے دہرماتما پارٹی اور گریجویٹ، جج، وکیل وغیرہ جس راہ سے اسلام پر حملہ آور ہیں یہ راہ کامیابی کے نہیں۔تم سے بہت پہلے مدینہ کے یہود نے اسی راہ کو اختیار کیا تھا اور ان کی مخفی کمیٹیاںاستیصال اسلام کے لئے جان توڑ کوشش کر رہی تھیںجن کا ذکر اللہ تعالیٰ کی پاک کتاب میںیوں آیا ہے۔(المجادلۃ :۹) ترجمہ: کیا نہیں دیکھا تو نے ان لوگوں کی طرف کہ منع کئے گئے مخفی کانا پھوسی سے پھر باز نہیں آتے اور کمیٹئیں کئے جاتے ہیں اور فرمایا