نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 331 of 358

نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 331

۱) الٰہی اقوال یا اچھے لوگوں کی بات سے سَند لینا سمعی دلیل ہے اور اس کو سنسکرت میں شَبد کہتے ہیں (۲) تشبیہ کو اپمان کہتے ہیں۔عِلّت سے معلول کو سمجھنا لم کہلاتا اور معلول سے علّت کو سمجھنا اِنّ ہے(۳) اور استقراء سے پتہ لگانا تمثیل ہے اور ان سب کو انومان کہتے ہیں۔(۴) مشاہدات سے استدلال سنسکرت میں پرتیکش ہے حو اس ظاہرہ سے استدلال ہو یا حواسِ باطنہ سے۔دلائل میں پہلی دلیل شبد ہے اِس سے ہم نے استدلال نقلی دلائل میں کیا ہے۔دوسری دلیل اپمان یا تشبیہ ہے۔اِس دلیل سے ہم نے یوں کام لیا ہے کہ جس طرح مقطّعات تمہارے مقدس وید میں ہیں اسی طرح ہماری مقدّس کتاب میں ہیں۔جس طرح وہاں اسمائِ الہٰیہ لئے گئے ہیں اسی طرح یہاں لئے گئے ہیں فرق اتنا ہے کہ اسلامیوں کے پاس ایک قاعدہ ہے اور تمہارے یہاں دھینگا دھانگی ہے کہ ’’ آ ‘‘ سے یہ لو اور’’ اُ ‘ ‘ سے یہ اور ’’ م ‘‘ سے یہ مراد لو۔تیسری دلیل انومان سے ہم نے یوں کام لیا ہے کہ ہم نے استقراء کیا ہے کہ ہندو، سناتن، آریہ، یورپ، امریکہ کے لوگ مقطّعات کو اجزاء کلمات تجویز کرتے ہیں تو ہم نے اسی استقراء سے مقطّعات قرآنیہ کو اجزاء کلماتِ طیّبات لیا ہے۔اب چوتھی دلیل پرتیکش یُوں ہے کہ کلمہ طیّبہ ۔۔۔ چار جملے ہیں۔چوتھا جملہ مطلب وغایت کو ادا کرتا ہے اور تیسرا جملہ سروپ کو۔دوسرا جملہ مادہ کتاب کو تو ان مشاہداتِ ثلٰثہ سے یہ پتہ لگا کہ پہلا جملہ اِس کتاب کے متکلّم و مصنّف کا پتہ دیتا ہے۔جواب سوال نمبر۱۱۶کا بقیہ کچھ تو صفحات ذیل میں ہے۔نمبر شمار جواب صفحہ ۱ مقطعات پر ۲۶۰،۲۶۵ ۲ اصحاب الفیل وابابیل ۱۷۲۔۱۷۵ ۳ ہوالابتر ۵،۶دیباچہ