نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 289 of 358

نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 289

طوائف الملوکی پیدا کر دی جیسا کہ تمھارے سماج کے آوہ گرو نے لکھا ہے۔تو دیکھ لوآخر انڈیا میں کیسی وحدت والی سلطنت اللہ تعالیٰ نے پیدا کر دی۔یقیناًمجھے خوشبو آ رہی ہے کہ صرف باتوں کا مذہب مذہب نہیں رہ سکتاآخر حق غالب آتا ہے اور حقیقی علم کے ساتھ حقیقی عمل ہی نافع وبابرکت ہوتا ہے۔سوال نمبر ۹۶۔لوٹ کا مال خدا کا اوراس کے رسول کا حق ہے۔خدا کو مال کا پانچواں حصہ ملنا چاہیے۔بھلا محمود کا کیا قصور۔الجواب: تم کو نہ اللہ تعالیٰ نے سلطنت د ی نہ اس کا کچھ حصہ عطا کیا۔لیکھرامی آریہ کا ملک ہو تو تمھارے ارادوں کا پتہ لگے۔تم تو عجیب دماغ کے ہو۔تمھیں نفع پہنچے یا نہ پہنچے مگر شائد کسی کو تو فائدہ پہنچے ہی گا اس لئے چند باتیں لکھتے ہیں۔سنو! تمھارے ہاں لکھاہے اور راجا بھی اس دولت میں جو سب نے مل کر فتح کی ہو سولہواں حصہ فوج کے سپاہیوں کو دیوے۔دیکھو ! تمھارے ہاںکی تقسیم جور اور حیف پر مبنی ہے۔اس میں یہ ہے کہ سولہواں حصہ فوج کو دیا جائے اور پندرہ حصے ر ا جہ لیوے مگر قرآن کریم یوں تقسیم فرماتا ہے کہ چار حصہ فوج لے اور پانچواں حصہ الٰہی کاموں اور رسول کے مصارف میں صرف ہو۔ہے کوئی رشید جو انصاف اور امتیاز کی نگاہ سے ان دونوں قانون کو دیکھے۔سام وید باب ۸فصل ۲پرپھاٹک ۹۔اے وہ اندر کہ تیری دولت تجھ ہی میں ہے۔اس آدمی پر کون متنفس حملہ کرے گا۔فیصلہ کے دن اے مگھاون قوی دل تیرے عقیدے کے طفیل سے لوٹ کا مال جیتے ہیں اور محمود کو کون عقلمند انڈین حملوں میں قصور وار ٹھہرا سکتا ہے؟ سوال نمبر۹۷۔دین اسلام خدا کی طرف سے نہیںکیونکہ اس میں سب برائیاںخدا کے ذمہ لگائی گئی ہیں۔گمراہ کنندہ ہے،شیطان منجانب اللہ ہے۔عورتوں سے نہ اتفاق نہ سلوک ہے؟ الجواب:اسلام کے معنی ہیں فرمانبرداری اور اطاعت۔الاسلام کے معنی ہیں خاص اطاعت۔انقیاد حکم حاکم پر کاربند ہونا اور اس کی منع کردہ باتوں سے رک جانا اور حاکم پر کوئی اعتراض نہ