نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 266 of 358

نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 266

ر سطح مستوی اور نقطہ سے جس کو سیاہی سے بناتے ہیں اور قلم کے خط سے شروع ہوتا ہے خط استویٰ۔جدی سرطان۔افق نصف النہار وغیرہ سب فرضی باتیں ہیں مگرا س فرض سے کیسے حقائق مادیہ تک پہنچ گئے ہیں لیکن اگر ان بدنصیبوں کو کہیں کہ مومن بالغیب ہوکر دعاؤں اور نبیوں کی راہوں پر چل کر دیکھو تو کیا ملتاہے! تو ہنس کر کہتے ہیں کیا آپ ہمیں وحشی بنانا چاہتے ہیں ؟میں نے بارہا ان (مادیوں) کو کہاہے تندرست آنکھ بدوں اس خارجی روشنی اور تندرست کان بدوں خارجی ہوا کے اورہمارا نطفہ بدوں ہم سے خارج رحم کے بہت دور کی اشیاء بدوں ٹلس کوپ کے باریک درباریک اشیاء بدوں مائکرس کو پ کے۔دوردراز ملکوں کے دوستوں کی آوازیں بدوں فونوگراف کے اور ا ن کی شکلیں بدوں فوٹوگرافی کے نہیں دکھائی دیتیں۔اب جب کہ تم ان وسائط کے قائل ہو اور اضطراراً قائل ہوناپڑتا ہے تو روحانی امور میں کیوں وسائط کے منکر ہو؟ خدا تعالیٰ کی ہستی کو مان کر بھی تم ملک اور شیاطین کے وجود پر کیوں ہنسی کرتے ہو افسو س اس کا معقول جواب آج تک کسی نے نہیں دیا۔ناظرین! جس طرح سچے وسائط ہمارے مشاہدات میں ہیں اسی طرح سچے وسائط مکشوفات میں بھی ہیں۔جس طرح مشاہدات میں الٰہی ذات وراء الورا ہے اور ضرور ہے۔اسی طرح الٰہی ذات روحانیت میں بھی وراء الورا ہے۔اگر روحانیت میں بھی بعض وسائط غلط اور وہم ہیں تو مشاہدات بھی اس غلطی سے اوروہم سے کب خالی ہیں! فرشتے آسمان اور آسمانی اجرام اور ان کے ارواح کے لئے بطورجان کے ہیں شیاطین بھی ہلاکت ظلمت اور جناب الٰہی سے دوری اور دکھوں کے پیداکرنے کے لئے بمنزلہ اسٹیم کے اسٹیم انجن کے لئے ہے۔خلاصہ امور چہار گانہ مذکور (۱) مظاہر قدرت کے دیکھنے والے اعلیٰ بھی ہوتے ہیں اور ادنیٰ بھی۔ادنیٰ کو اعلیٰ کی رویت۔رویت کا انکار مناسب نہیں۔(۲) الکاپات۔مٹی ارز۔شعلے ایک عظیم الشان کارخانہ ہے اور اس میں اس قدر مواد ہوتے ہیں کہ اسلحہ کے بنانے والوں نے اورٍ