نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 239 of 358

نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 239

اور اس پر جو ہم پرنازل کیا گیا اور اس پر جو پہلے نازل کیا گیا اور تمہاری ناراضی کی جڑ یہ ہے کہ تم حدود الٰہیہ کو توڑنے والے ہو۔ان سے کہہ میں تمہیں ان قوموں کی خبر دوں جنہیں خدا کی طرف سے ان کے ایسے افعال کا بہت برا بدلا ملا۔وہ وہ ہیں جنہیںخدا نے بندر اور سؤر اور شیطان کے پرستار بنادیا۔یہ بہت برے پایہ کے لوگ ہیں اور سب سے زیادہ راہ حق سے دور بھٹکے ہوئے ہیں۔جب تمہارے پاس آتے ہیں اٰمنّا کہتے ہیں حالانکہ کفر دل میں لے کر آتے ہیں اور کفر کو لے کر نکلتے ہیں اور جو کچھ دل میں مخفی رکھتے ہیں اسے خدا خوب جانتا ہے۔بہت سے ان میں سے تم خوب دیکھتے ہو بدکاری اور بغاوت اور حرام خواری میں بڑھ بڑھ کر قدم مارتے ہیں بہت ہی بُرے کام ہیں جو یہ کرتے ہیں۔ان کے عالموں اور درویشوں کو چاہیے تھاکہ انہیں ناجائز باتوں اور حرام خوری سے روکتے بہت ہی بری کرتوتیں ہیں جو یہ کرتے ہیں۔یہ آیتیں بغیر کسی تفسیر اور شرح کرنے کے صاف بتا رہی ہیں کہ بندر اور سؤر بن جانے کی حقیقت کیا ہے اور بندر اور سؤر کے ساتھ جو لفظ یعنی شیطان کے پرستار لکھ دیا ہے وہ اور بھی حقیقت امر کو واضح کئے دیتا ہے۔اس میں مدینہ کے یہود کو جو آنحضرت ﷺ کے مخاطب اور مخالف تھے اور اسلام کی بیخ کنی کے لئے طرح طرح کے منصوبے اور ناجائز حیلے کرتے تھے ملزم کرنے اور ان کے انجام بد کی آئندہ خبر دینے کے لئے اللہ تعالیٰ ان کے باب دادوں کا واقعہ سناتا ہے جنہوں نے اپنے وقت کے ماموروں کے مقابل ایسی ہی گستاخیاں اور بے اندامیاں کیں اور آخر سؤر اور بندروں کی طرح طرح کی ذلتیں اور عذاب انھیں پہنچے۔خدا کی کتاب مدینہ کے یہود کو اطلاع دیتی ہے کہ اس نبی کی مخالفت میں بھی تم پر ویسی ہی سزائیں نازل ہوں گی۔چنانچہ ایسا ہی ہوا جو اسلام کی تاریخ کے پڑھنے والے پر مخفی نہیں۔کیا ان خسیس یہودیوں کے جو افعال واعمال ان آیتوں میں مذکورہوئے ہیں اور جن قباحتوں اور شناعتوں سے ان کی خدا نے پردہ اٹھایا ہے وہ بندروں اور سؤروں کیسی عادت اور افعال نہیں ہیں؟ سوال نمبر ۷۳۔چند فٹ لمبی چوڑی کشتی میں روئے زمین کے تمام چرند، پرند، درند