نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 150 of 358

نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 150

اہم برہم اسمی کے ارتھ میں لکھا ہے۔اس موقع پر تاتستھ اوپادہی استعارہ ظرف و مظروف کا استعمال ہے جیسے (منچا کری شرنتا)منچ پکارتے ہیں۔چونکہ منچ جڑ ہیں ان میں پکارنے کی طاقت نہیں اس لئے منچ کے جاگزین آدمی پکارتے ہیں۔پس اسی طرح اس موقع پر بھی سمجھنا چاہیے۔۴۔چہارم۔کے ساتھ ہے  (الزلزال:۵،۶) بیان کرے گی زمین اپنی خبریں اس لئے کہ تیرے رب نے اسے وحی کے ذریعہ حکم کیا ہے۔پس ہمہ سامرتھ(القادر)۔سرب شکتی مان۔(الغنی۔القادر)جو دوسرے کا محتاج نہیں۔اگر وہ زمین کو فرماوے کہ توبیان کر تو کیا و جہ ہے کہ پھر بیان نہ کر سکے۔تم بھی تو قویٰ خداداد سے ہی بولتے ہو۔زمین بھی قوی خداداد سے بول سکتی یا بیا ن کرسکتی ہے۔۵۔پنجم۔تحدث میں یہ ضرور نہیں کہ ہماری تمہاری طرح پنجابی یا اردو بولے۔ہرایک کا بولنا اس کے مناسب حال ہوا کرتا ہے۔پھر الفاظ کی ضرورت بھی نہیں۔ایک لسان الحال اور ایک لسان الافعال بھی ہوتی ہے۔اب تم خود سمجھ لو کہ زمین کی لسان کس نوع کی ہے جس سے وہ بولے گی اور ظرف ومظروف کے استعارہ پر کیوں تم خود سمجھ نہیں سکتے؟ سوال نمبر ۳۵۔(حٰم السجدہ:۲۱)(یٰسٓ :۶۶)یہ بڑی عجیب بات ہے کہ آدمی کے ہاتھ پاؤں وغیرہ زبان کاکام دیں گے۔یہ ڈھکونسلا ہے۔قرآنی بہشت خراب خانہ ہے۔الجواب۔شہادت تحریری بھی ہوتی ہے اور تقریری بھی۔اور تقریر زبان سے اور ایماء وکنایہ سے بھی۔اسی طرح یاد رکھو کہ کلام بھی دو قسم کا ہوتا ہے۔ایسا ہی نطق بھی دو قسم کا ہوتا ہے۔ایسے ہی شہادت، تحدیث اور قول کے اقسام بھی ہوتے ہیں۔تم ایوروید تو پڑھے ہوئے نہیں مگر سنو ! ایک آتشک کا مارا ہوا ہمارے سامنے آتاہے تو اس کے ہاتھ اور پاؤں کے نقش و نگار جو آتشک سے پیدا ہوتے ہیں اور اس کے آنکھ کان کی حالت صاف صاف گواہی دیتی ہے کہ یہ آتشک کا مبتلا ہے۔