نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 113
کہ تو بے عقل آدمی ہے سیر کے وقت نمک اور کھانے کے وقت گھوڑا لانے سے کیا مطلب تھا تو فحوائے کلام نہیں سمجھتا ورنہ جس موقع پر جو چیز لانی چاہیے تھی اسی کو لاتا۔تجھ کو فحوائے کلام کا خیال کرنا لازمی تھاجو تو نے نہیں کیا تو بے وقوف ہے میرے پاس سے نکل جا۔اس سے ثابت کیا ہوا کہ جہاں جس معنے کو لینا واجب ہو وہاں اسی کو لینا چاہیے۔تو اندریں صورت ہم کو اور آپ سب کو ایسا ماننا اور عمل میں لانا چاہیے۔صفحہ ۲،۳ ستیارتھ ترجمہ رگوید آدھی بھاش بھومکا میں ہے صفحہ ۱۳۶۔اردو ترجمہ منشی رام جگیا سو۔لطیفہ۔’’اور جو کم عقل ،کم علم اور متعصب انسان کا کیا ہوا ارتھ ہے وہ خراب اور جھوٹ ہوتا ہے اس لئے اس کی عزت کسی کو نہ کرنی چاہیے کیونکہ وہ ٹھیک نہیں ہوتا اور اس کی عزت کرنے سے انسانوں میں غلطی گھر کر جاتی ہے‘‘۔دیانند نے اور اس کے آریہ مسافر اور آخر دھرم پال نے اس نصیحت پر عمل نہ کیا۔قرآن کریم پر اعتراض کرتے وقت آگا پیچھا،لغت وغیرہ پر کچھ دھیان نہ کیا اور کم عقل،کم علم(عربی کے علم سے کمی)اور متعصب انسان کی طرح اعتراض در اعتراض کر دئیے۔سوال نمبر۱۴۔’’قسموں پر اعتراض۔گھوڑوں، اونٹوں، پہاڑوں، درختوں، کتابوں، ہواؤں سورج ، چاند ،ستاروں کی پے در پے قسمیں کھاتا ہے ،ہنسی کی بات ہے‘‘ الجواب۔اگر قسم ہنسی کی بات اور بری ہے تو جو یجروید بہاش چھٹاباب منتر بائیس میں بانی آریہ سماج نے لکھاہے وہ توضرور رد کے قابل ہے۔’’ہَے (ورن)نیا کرنے والے سبہاپتی (منصف را جہ)کئے ہوئے میں نیا اگھنیا نمار نے یوگ گئو آدی پشئوں کی شپت (قسم۔سوگند) ہے۔اتی اسی پرکار(اسی طرح)جو آپ کہتے ہیں اور ہم لوگ بھی شیام ہی شپت کرتے ہیں آپ بھی اس پرتگیا (قانون)کو مت چھوڑئیے اور ہم لوگ بھی نہیں چھوڑیں گے۔‘‘ نمارنے کے لائق گائے وغیرہ جانوروں کی۔