نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 92
کے بعد دلی جوش سے چاہتی ہے کہ اس کا آقا جس کے حکم کو اس نے توڑا ہے اس کی خطا معاف کر دے اور آئندہ اسے تلافی مافات کا عمدہ موقع دے۔قرآن کریم نے انسان کی فطرت کی سچی آرزو کے موافق رحیم کریم توّاب آقا پیش کیا ہے۔تناسخ اور کفارہ کا بے ہودہ مسئلہ توبہ کی فلاسفی کے نہ سمجھنے سے پیدا ہوا ہے۔بعض بیماریوں کو دیکھو بدی سے پیدا ہوتی ہیں اور جسمانی طور پر جب ان کا علاج کیا جاتا ہے تو وہ بیماریاں دور ہو جاتی ہیں۔پس توبہ روحانی علاج ہے روحانی بیماروں کا۔جسمانی سلسلہ سے کاش تم لوگ روحانی سلسلہ کو سمجھو۔سوال نمبر۷۔’’غفار ہے اور توبہ نہیں سنتا۔بہرہ اور سنگ دل ہے‘‘ الجواب۔لطیفہ۔اگر توبہ سن لے اور درگزر کرے تو تمہارے نزدیک جیسے تم نے نمبر۶میں بتایا ہے بے انصاف وظالم ہوا۔اب نمبر۷میں آپ کے بیان سے ظاہر ہوتاہے کہ ’’بہرہ وظالم ہے سنگ دل ہے توبہ کیوں نہیں مانتا‘‘دیکھا حق کی مخالفت سے انسان کیسا بہکتاہے کہ متضاد باتوں کا ماننے والا بن جاتا ہے۔قرآن کریم میں ہے۔(طٰہٰ:۸۳)جو توبہ کر چکا اور ایمان لایا اور اس کے عمل اچھے ہوئے پھر اس سب کے بعد ہدایت کی راہوں پر ثابت قدم رہا۔اس کے لئے میں غفار ہوں۔مفردات راغب میں لکھا ہے۔الغفر۔اِلْباس الشیء مایصونہ عن الدنس المغفرۃ من اللہ تعالیٰ۔ان یصون العبد من ان یمسّہ العذاب۔غفر کے معنے ہیں ایسی شئے کا پہنانا جو میل کچیل سے بچائے۔خدا کی مغفرت کے یہ معنے ہیں کہ بندہ عذاب کے لگنے سے بچایا جائے۔اسی سے مغفر مشتق ہے جو لوہے کی خود کو کہتے ہیں۔اور غفار ہ اس کپڑا کو کہتے ہیں جسے سر پر رکھنے سے کپڑوں کو چکنا تیل نہ لگ سکے۔دیکھو مغفرت جس سے غفار کا لفظ نکلا ہے۔کس طرح توبہ اور